تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 384
تاریخ احمدیت جلد ۴ 376 خلافت عمنا فرقہ نظر آتا ہے اور باوجود اس بات کے احمدی فرقہ کے نزدیک اس گروہ نو مسلم کی تائید کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اس فرقہ سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا مگر اسلام کا نام لگا ہوا تھا۔اس لئے اس کی شرم سے امام جماعت احمدیہ کو جوش پیدا ہو گیا ہے اور آپ کی بعض تقریریں دیکھ کر دل پر بہت ہیبت طاری ہوتی ہے کہ ابھی خدا کے نام پر جان دینے والے موجود ہیں۔اور اگر ہمارے علماء کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ احمد یہ جماعت اپنے عقائد کی تعلیم دے گی۔تو وہ اپنی متفقہ جماعت میں۔ایسا خلوص پیدا کر کے آگے بڑھیں کہ ستو کھا ئیں اور چنے چبائیں اور اسلام کو بچائیں۔جماعت احمدیہ کے ارکان میں ہم یہ خلوص بیشتر دیکھتے ہیں۔دیانت ایفاء عہد۔اپنے امام کی اطاعت۔پس یہ جماعت فرد ہے۔جناب مرزا صاحب اور ان کی جماعت کی عالی حوصلگی اور ایثار کی تعریف کے ساتھ مسلمانوں کو ایسے ایثار کی غیرت دلاتے ہیں۔دیانت اور امانت جو مسلمانوں کی امتیازی صفتیں تھیں آج وہ ان میں نمایاں ہیں۔جماعت احمدیہ کی فیاضی اور ایثار کے ساتھ ان کی دیانت اور آمد و خرچ کے ابواب کی درستگی اور باقاعدگی سب سے زیادہ قابل ستائش ہے اور یہی وجہ ہے کہ باوجود آمدن کی کمی کے یہ لوگ بڑے بڑے کام کر رہے ہیں۔مسلمانوں کی مذہبی حمیت اور جوش مذہبی کا اندازہ یہ ہے کہ صرف قادیانی جماعت کے ڈیڑھ سو مبلغین تین ماہ تک بغیر کسی معاوضہ کے اور اپنے ذاتی خرچہ پر کام کر رہے ہیں اور دو سو مبلغ آمادہ کار ہیں۔ان مجاہدین میں زمیندار - علماء- گریجوایٹ - اخبار نویس اور بیج شامل ہیں " ه نذیر احمد خان صاحب وکیل جے پور نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔قادیان کی احمد یہ جماعت کے ۷۲ مبلغین کام کر رہے ہیں۔چوہدری فتح محمد صاحب ایم۔اے امیروند ایک نہایت ہی زیرک، فہیم ، بردبار مدبر اور تبلیغ میں سالہا سال کا تجربہ رکھنے والے انسان ہیں۔ان کا انتظام اور نظام ایسے اعلیٰ پیمانہ اور طریق پر ہے کہ تمام مبلغین بھیجنے والوں کو انکا اتباع کرنا چاہئے اور حق یہ ہے کہ جب تک اس جماعت کے قواعد و ضوابط اور ہدایات پر جوان کو مرکز سلسلہ سے ملتی رہتی ہیں سب مبلغین کار بند نہ ہوں گے کامیابی محال ہے ان احمدی مبلغین کو ہدایت ہے کہ وہ اپنے افسر کی اطاعت ایسی کریں کہ اگر جان جانے کا خطرہ بھی ہو تو بھی حکم بجالائیں۔۔۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس جماعت کے سوا اور کسی فرد کی ایسی اعلیٰ تربیت نہیں۔نہ سنیوں میں نہ شیعوں میں نہ کسی اور جماعت میں۔پس میں بچے دل سے مشورہ دیتا ہوں کہ اس اعلیٰ نمونہ کی تقلید سب بھائی کریں اور فائدہ اٹھاویں کہ بغیر اس کے کامیابی