تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 383 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 383

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 375 خلافت همانید و سواں سال قدر خوش ہوں کم ہے اور جس قدر اللہ تعالی کا شکریہ ادا کریں تھوڑا ہے۔ایسی سخت قوم اور ایسے نامناسب حالات میں تبلیغ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔اور ان حالات میں جو کچھ آپ نے کیا ہے وہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔آپ لوگوں کے کام کی دشمن بھی تعریف کر رہا ہے اور یہ جماعت کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔اور میری خوشی اور مسرت کا موجب اللہ تعالٰی آپ کے اس کام کو قبول فرمائے۔میں آپ لوگوں کے لئے دعا کرتا رہا ہوں۔اور انشاء اللہ دعا کرتا رہوں گا۔امید ہے آپ لوگ اس کام کو بھی یاد رکھیں گے۔جو واپسی پر آپ کے زمہ ہے۔اور جو ملکانہ کی تبلیغ سے کم نہیں۔یعنی اپنے ملنے والوں اور دوستوں میں اس کام کے لئے جوش پیدا کرتے رہنا کیونکہ اس سے بڑی مصیبت اور کوئی نہیں کہ ایک شخص کی محنت آبیاری۔کسی کمی کے سبب سے برباد ہو جائے۔مومن کا انجام بخیر ہوتا ہے اور اسے اس کے لئے خود بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔خدا تعالٰی آپ کے ساتھ ہو۔آمین۔والسلام- (نوشه سید عبد الرحیم لدھیانوی) خاکسار (حضرت) مرزا محمود احمد (خلیفتہ المسیح ثانی) از قادیان- دار الامان - پنجاب مسلمان اور ہندو اخبارات کی طرف سے خراج تحسین اگرچه مورچہ بندی کا ابھی یہ ابتدائی دور تھا مگر اس میں بھی مجاہدین احمدیت نے سرفروشی، جاں بازی اور فداکاری کاوه شاندار نمونہ دکھایا کہ مسلمان ہی نہیں۔ہندو بھی عش عش کر اٹھے۔چنانچہ اخبار "زمیندار" لاہور (۸/ اپریل ۱۹۲۲ء) نے لکھا۔" احمدی بھائیوں نے جس خلوص جس ایثار ، جس جوش اور جس ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے"۔اخبار " ہمدم لکھنو (۶ را پریل ۱۹۲۳ء) نے لکھا۔" قادیانی جماعت کی مساعی حسنہ اس معاملہ میں بے حد قابل تحسین ہیں اور دوسری اسلامی جماعتوں کو بھی انہی کے نقش قدم پر چلنا چاہئے"۔- اخبار مشرق "گورکھپور نے لکھا۔"جماعت احمدیہ کے امام و پیشوا کی لگاتار تقریروں اور تحریروں کا اثر ان کے تابعین پر بہت گہرا پڑتا ہے اور اس جہاد میں اس وقت سب کے آگے یہی