تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 382
تاریخ احمدیت جلد ۴ 374 خلافت ماشیه دسواں سال لیکن اب جب چارلی گیج والے دوبارہ داخل اسلام ہوئے تو یہی چاروں گھر جو شدھی سے بچے ہوئے بتائے جاتے تھے اپنے گاؤں کو دوبارہ مسلمان ہونے سے روکنے کے لئے لاٹھیاں لے کر باہر نکل آئے۔یہ واقعہ صاف اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آریہ لوگوں نے بہت سے ملکان کو اپنا ایجنٹ بنایا ہوا ہے۔جو بظاہر مسلمان ہی رہتے ہیں اور اشدہ نہیں ہوتے۔مگر اندر ہی اندر لوگوں کو ارتداد کے لئے تیار کرتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔پس ہمارے مبلغین کا فرض ہے کہ اپنے اپنے گاؤں میں جو لوگ ملکانہ ان کو اپنے گاؤں کی حالت سے مطمئن کرانا چاہتے ہوں۔ان کی باتوں سے خوش ہو کر مطمئن نہ ہو بیٹھیں۔یہ گاؤں کے ہر ایک فرد تک پہنچیں اور اس کا عندیہ معلوم کریں۔اس کو اسلام پاک سے آگاہ کریں۔اور محبت اسلام ان کے دلوں میں ڈالیں۔جب تک ہر ایک فرد سے آپ ذاتی طور پر واقفیت حاصل نہیں کریں گے برخلاف اس کے ایک ہی شخص کو جو آپ سے ملتا ہے اپنے گاؤں کی زبان سمجھتے رہیں گے۔آپ خطرہ سے خالی نہیں۔ایسے لوگ جو چاہیں آپ کو اطمینان دلا ئیں۔مگر آپ لوگ ایک دم کے لئے بھی ان سے غافل نہ ہوں۔اور کام میں سرگرمی جاری رکھیں : اللہ تعالٰی دشمن کی چالوں کو سمجھنے اور ان کا تدارک کرنے کی آپ کو توفیق دے۔آمین ثم آمین۔۴/ جون ۶۱۹۲۳ خند خوشنودی خاکسار: مرزا شریف احمد نائب نا ظر انسدادار تداد راجپوتانه - قادیان د نوشته سید عبدالرحیم لدھیانوی ) والسلام ( سند اظہار خوشنودی کا متقن جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے تحریک شدھی کے خلاف جہاد میں حصہ لینے والے مبلغین کو واپسی پر عطا کی جاتی تھی۔نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم بسم الله الرحمن الرحیم سند اظهار خوشنودی مکرمی - السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکات۔اللہ تعالٰی کے فضل اور کرم کے ساتھ اپنا وقف کردہ وقت پورا کر کے آپ واپس آرہے ہیں۔یہ موقعہ جو خدمت کا اللہ تعالی نے آپ کو دیا ہے۔اس پر آپ جس