تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 381 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 381

تاریخ احمدیت جلد ۴ ایک اہم سر کلر 373 خلافت ثانیه دسواں سال حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نائب ناظر انسداد راجپوتانه قادیان کے ایک سرکلر کی نقل جو آپ نے ۱۴ جون ۱۹۲۳ء کو جاری فرمایا۔اس سرکلر سے مجاہدین احمدیت کی مشکلات پر روشنی پڑتی ہے۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مکرمی، السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔دار الامان سے روانہ ہونے والے آخری وفد کو بالخصوص دار الامان سے روانہ ہونے والے خطوط میں متعدد بار حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی گاؤں میں ہمارے مبلغ وارد ہوتے ہیں تو مالکانوں میں سب سے پہلے جو لوگ ان کا استقبال کرتے ہیں اور آریوں سے اپنی بیزاری کا تذکرہ کرتے ہیں وہی آریوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں (الا ما شاء اللہ ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ آنے والے مبلغ کو اپنی باتوں میں الجھائے رکھیں اور اس کو یقین دلاتے رہیں کہ تم بے فکر رہو یہاں کوئی شد ھی نہیں ہو گا اور کیا مجال ہے جو آریہ یہاں آسکیں۔ان کی اس قسم کی باتوں کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ مبلغ اپنے علاقہ کو ارتداد کے فتنہ سے محفوظ خیال کر لیتا ہے۔جس سے اس کی عملی طاقتیں ست ہو جاتی ہیں اور وہ گاؤں کے سب لوگوں سے ملنے کی کوشش نہیں کرتا اور وہ لوگ جو اس فتنہ سے متاثر ہوتے ہیں احمدی مبلغ سے دور رہتے ہیں۔اس لئے آریوں کا زہر ان پر سے نہیں اتر سکتا۔اور آریوں کا ایجنٹ مبلغ کو اپنے ساتھ الجھائے رکھتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب اشد ھی کا وقت آتا ہے تو اشدہ ہونے کے لئے سب سے آگے وہی اشخاص ہوتے ہیں جو کہ ہمارے مبلغ سے زیادہ ملنے والے اور ظاہرا اسلام کے حامی نظر آتے ہیں۔اس فتنہ کے متعلق حضور نے بار بار اب تک لکھوایا ہے۔مگر اب تک بہتوں نے آریوں کی اس چالا کی کو نہیں سمجھا اور وہ اب تک آریوں کے ایجنٹ کے قریب سے آگاہ نہیں ہوئے۔تازہ واقعہ یہ ہے کہ علادل پور کا ایک شخص جس کے باپ کا نام ملمان خان ہے اور اس کا نام ملائم خان آریوں کا ایجنٹ ہے۔جس کو دہ ۱۵ روپے ماہوار دیتے ہیں۔اپنے گاؤں کے احمدی مبلغ سے اس کے اچھے تعلقات ہیں۔پہلے آنے والی رپورٹیں بتاتی رہی ہیں کہ اس شخص کو اسلام سے محبت ہے مگر آج ذہلیہ سے اطلاع ملتی ہے کہ یہی ملائم خان ساکن علاول پور ذہبیہ میں گیا اور اپنا نام ملائم سنگھ بتایا اور ہمارے اس جگہ کے مبلغ کی سخت مخالفت کرنے لگا۔اسنے وہاں کے لوگوں کو سخت جوش دلایا اور آریہ ہو جانے کے لئے بڑا زور لگایا اور ان لوگوں پر زور ڈالا کہ ہمارے مبلغ کو اپنے گاؤں سے نکال دیں۔دوسری مثال یہ ہے کہ چارلی گنج جو بحجم اللہ احمدی مبلغوں کے ذریعہ سارے کا سارا ارتداد سے واپس داخل اسلام ہوا ہے۔جب یہ گاؤں مرتد ہوا تھا۔تو اس وقت چار گھر ظاہر امسلمان ہی رہے تھے۔