تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 13
تاریخ احمد بیری، جلد ۳ 13 سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت (۲) ایک دفعہ حضور لیٹے تھے اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم حضور کے پیر داب رہے تھے۔حضرت صاحب کسی قدر سو گئے۔شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں پر جیب میں کچھ سخت چیز پڑی ہے۔میں نے ہاتھ ڈال کر نکال لی - تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔آدھی ٹوٹے ہوئے گھڑے کی ایک چینی تھی۔اور دو ایک ٹھیکرے۔میں پھینکنے لگا تو حضور نے فرمایا۔یہ میاں محمود نے کھیلتے کھیلتے میری جیب میں ڈال دیئے آپ پھینکیں نہیں میری جیب میں ہی ڈال دیں کیونکہ انہوں نے ہمیں امین سمجھ کر اپنے کھیلنے کی چیز رکھی ہے۔وہ مانگیں گے تو ہم کہاں سے دیں گے۔پھر وہ جیب میں ہی ڈال لئے۔یہ واقعہ اگر چه مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے سوانح میں لکھا ہے مگر میرے سامنے کا یہ واقعہ ہے "۔اس ضمن میں ایک تیسری روایت بھی ہے۔یہ روایت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنے قلم سے لکھی ہے جو نہایت درجہ عجیب ہے آپ لکھتے ہیں کہ۔محمود چار ایک برس کا تھا۔حضرت مضمون اندر بیٹھے لکھ رہے تھے میاں محمود دیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا۔پہلے کچھ دیر تک آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی۔ان مسودات کو آگ لگادی۔اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجائے۔اور حضرت لکھنے میں مصروف ہیں سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودے راکھ کا ڈھیر ہو گئے۔اور بچوں کو کسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو سیاق عبارت ملانے کے لئے کسی گزشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت ہوئی۔اس سے پوچھتے ہیں خاموش۔اس سے پوچھتے ہیں دبکا جاتا ہے۔آخر ایک بچہ بول اٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دیئے۔عورتیں بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اور انگشت بدنداں کہ اب کیا ہو گا اور در حقیقت عادتا ان سب کو علی قدر مراتب بری حالت اور مکروہ نظارہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا اور ہونا بھی چاہئے تھا۔مگر حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں۔خوب ہوا اس میں اللہ تعالی کی کوئی بڑی مصلحت ہو گی۔اور اب خدا تعالی چاہتا ہے۔کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھائے " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول تھا کہ آپ کے لئے ہمیشہ کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز صندوق وغیرہ میں ضرور رکھتے تھے۔حضرت اقدس تصنیف کے کام میں مصروف ہوتے اور آپ کھانے کی کوئی چیز طلب فرماتے تو حضور اسی وقت یہ مطالبہ پورا فرما دیتے۔ای طرح حضور گول کمرہ میں اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے - آپ کا دل بہلانے کے لئے کہانیاں سناتے چنانچہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی فرماتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو کہانیاں سننے کا بہت شوق ہو تا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام