تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 12
تاریخ احمدیت جلد ۴ 12 سید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی کے سوانح قبل از خلافت زمین بی سی چلی جاتی تھی میں نہیں کہہ سکتا اس وقت ۱۸۹۳ء تھا یا ۱۸۹۴ء یا ۱۸۹۵ء قریباً قریباً اسی قسم کا زمانہ تھا۔یہی دن تھے۔یہی موسم تھا۔یہی مہینہ (یعنی دسمبر ناقل تھا۔میں اس وقت اس اجتماع کی اہمیت کو نہیں سمجھتا تھا۔مجھے اتنا یاد ہے کہ میں وہاں جمع ہونے والے لوگوں کے ارد گرد دوڑتا اور کھیلیں پھرتا تھا۔میرے لئے اس زمانہ کے لحاظ سے یہ اچنبھے کی بات تھی کہ کچھ لوگ جمع ہیں اس فصیل پر ایک دری بچھی ہوئی تھی۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے ہوئے تھے اور ارد گرد وہ دوست تھے جو جلسہ سالانہ کے اجتماع کے نام سے جمع تھے۔ممکن ہے میرا حافظہ غلطی کرتا ہو اور دری ایک نہ ہو رو ہوں لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ایک ہی دری تھی۔اس ایک ہی دری پر کچھ لوگ بیٹھے تھے ڈیڑھ سو ہوں گے یا دو سو اور بچے ملا کر ان کی فہرست اڑھائی سو کی تعداد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شائع بھی کی تھی۔وہ لوگ جمع ہوئے تھے اس نیت اور اس ارادہ سے کہ اسلام دنیا میں نہایت ہی کمزور حالت میں کر دیا گیا ہے اور وہ ایک ہی نور جس کے بغیر دنیا میں روشنی نہیں ہو سکتی اسے بجھانے کے لئے لوگ اپنا پورا زور لگارہے ہیں اور ظلمت اور تاریکی کے فرزند ا سے مٹا دینا چاہتے ہیں اس ایک ارب اور ۳۰۰۲۵ کروڈ آدمیوں کی دنیا میں دو اڑھائی سو بالغ آدمی جن میں سے اکثر کے لباس غریبانہ تھے۔جن میں بہت ہی کم لوگ تھے جو ہندوستان کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی متوسط درجہ کے کہلا سکیں جمع ہوئے تھے۔اس ارادہ اور اس نیت سے کہ محمد رسول اللہ کا جھنڈا جسے دشمن سرنگوں کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔بلکہ اسے پکڑ کر سیدھا رکھیں گے۔اور اپنے آپ کو فنا کر دیں گے مگر اسے نیچا نہ ہونے دیں گے۔-73" المسیح حضرت مسیح موعود کی غیر معمولی نظر شفقت سید ناپر حضرت علیہ السبع الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ابتدا ہی سے بے مثال شفقت و محبت تھی اور حضور آپ کی دلداری اور دلجوئی کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ فرماتے تھے اور آپ کا یہ غیر معمولی پیار دیکھ کر آپ کے خدام بھی حیران رہ جاتے تھے۔چنانچہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی دو اہم چشم دید روایات اس پر کافی روشنی ڈالتی ہیں۔حضرت منشی صاحب کا بیان ہے کہ۔(1) " حضرت صاحب اپنے بیٹھنے کی جگہ کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے بلکہ کنڈا لگا کر بیٹھتے تھے۔حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب تھوڑی تھوڑی دیر بعد آکر کہتے۔ابا کنڈا کھول اور حضور اٹھ کر کھول دیتے۔