تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 377
تاریخ احمدیت جلد ۴ 369 خلافت هانیه کاروان سال گاؤں کے سب مرد اور عورتیں کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں اتنا بڑا اور کوئی مولوی نہیں ہے۔ہم تو اب اپنے بچوں کو اس سے پڑھوائیں گے۔میں نے اپنے پیارے خدا کا شکر ادا کیا۔ادھر ملکانہ لڑ کے مقامی ہندو ٹھا کروں کو بتا رہے تھے کہ کیوں بھئی رات کو آریہ کا تماشا دیکھا کہ ایک جور و اور گیارہ مرد وہ ٹھا کر یہ سن کر کہتے کہ یہ آریہ بہت گندے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد ٹھا کر گردندر سنگھ اور بہت سالوگوں کا ہجوم پہنچ گیا۔سارا میدان شائقین سے بھر گیا۔میں نے سب بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رات کو ٹھا کر صاحب نے کسی گمنام آریہ کے دو شعر سنائے تھے کہ ان قادیانیوں کو قتل کر دو۔باتوں میں کامیابی مشکل ہے۔میں نے ان کے شعروں کا جواب اشعار میں ہی دینے کا وعدہ کیا تھا۔کیا وہ پہلے بنالوں یا پہلے دوسری باتیں ہونی چاہئیں۔ان میں مسئلہ نینوگ، جو نہیں بدلنا وغیرہ سب کچھ بیان کر دیا۔اس کے ابتدائی شعر یہاں سے شروع ہوتے تھے۔" کیا ڈراتے ہو ہمیں کہ مار دیں گے جان سے کیا ڈرا کرتے ہیں وہ جو عبد ہیں رحمان کے ہم تو مراس دن گئے تھے جب بھی گھر سے چل پڑے اے سفیہ کیا ہے تو واقف احمدی ایمان سے مرنا بہتر ہے ہمارا زندہ رہتا اور بھی گرچہ تم نے دیکھنا ہو مار دو تم جان سے عورتوں میں بیٹھ کر للکارنا اچھا نہیں سامنے مردوں D کے آ اور جیت کے میدان سے تم, نیوگ کا مسئلہ لئے پھرتے ہو آفریں اس دید پر اور اس کی اعلیٰ شان کے کتے کتیا کھیلتے تھے ایک دن مندر کے پاس آریہ ان کو بلاتے تھے بڑوں کے نام سے ہیں بزرگ یہ سب ہمارے آج قسمت سے ملے ہم کھلائیں گے انہیں بھوجن بڑے آرام یہ صرف چودہ مصرعے ہیں کل ستر مصرعے تھے جن میں پورا مضمون تاریخ جون بدلنا اور پھر کسی بھی عبادت یا عمل سے بخشش نہ ہو نا درج تھا۔میں کوئی شاعر نہیں نہ قابلیت ہی ہے مگر ملکانوں نے خوب مزے لے لے کر بار بار انہیں سنا تھا۔ٹھاکر صاحب نے یہ اشعار سن کر جھٹ کہہ دیا کہ میں اس قسم کا آریہ نہیں ہوں۔میں نے کہا کہ پھر آریوں کی قسمیں ہو ئیں۔کوئی پنڈت دیا نند کو سچا جانے والا جبکہ