تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 373 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 373

تاریخ ام جلد ۴ 365 خلافت ثانیہ کا دسوا ہیں۔آپ کے اس رویے سے مجھ پر کوئی اچھا اثر نہیں ہوا بلکہ یہی معلوم ہوا کہ آپ اپنے مذہب کی کوئی خوبی بیان نہیں کر سکتے بلکہ ایک ایسی طرح ڈالنا چاہتے ہیں جس سے آپ کی کمزوری پر پردہ پڑا رہے۔میں بھی جذبات کو بھڑکا کر لڑائی کرا سکتا ہوں مگر ہمارا دین حق سلامتی کا مذہب ہے۔یہ جنگ کو روکنا اور صلح کو قائم کرنا چاہتا ہے۔ٹھاکر صاحب بولے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔اسلام تو پھیلا ہی جنگ سے ہے۔مسلمان چور اور ڈاکو بن کر لوگوں کو لوٹتے رہے ہیں میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوا ہے اور ہمارے پاس ساری کتابیں موجود ہیں آپ کی کیا طاقت ہے کہ میری باتوں کا جواب دے سکو اور اگر کھجلی ہو رہی ہو تو میں ابھی اتارنے کے لئے تیار ہوں۔بتاؤ کیا مرضی ہے۔اس کی یہ باتیں سن کر تین چار آدمیوں نے ارادہ کیا کہ اس ٹھا کر کو دو چار رسید کر کے مزا چکھایا جائے اور بعض ٹھا کر صاحب سے لڑنے بھی لگے۔میں نے بڑی محبت سے انہیں روکا اور کہا کہ جس طرح میں آپ کا مہمان ہوں بھائیو اسی طرح ٹھا کر صاحب ہمارے مہمان ہیں۔ہمارا دین حق ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی تمہارا مہمان بھی غلطی کرے تو تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اسے معاف کر دو اور اکرام ضیف کو ملحوظ رکھو۔میری یہ بات سن کر ٹھاکر صاحب بھی شرمندہ ہوئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس پنجابی کی ان لوگوں میں مجھ سے زیادہ عزت ہے۔خیر اب وہ صحیح راستے پر آ گیا تھا۔میں نے کہا تھا کر صاحب نے یہ دو الگ الگ سوال کئے ہیں۔پہلا گائے کے متعلق ہے کہ مسلمانوں نے گائے پر ظلم کیا ہوا ہے اور دوسرا یہ کہ دین حق تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔میں ان دونوں سوالات کے جوابات علیحدہ علیحدہ دیتا ہوں۔(۱) ہم سب مسلمان دودھ دینے والے سب جانوروں کی خدمت کرتے ہیں۔چاہے گائے ہو یا بکری، بھینس ہو یا اونٹنی ہم سب کو چارہ بھی ڈالتے ہیں اور راتب بھی کھلاتے ہیں۔اس کی بچپن ہی سے نگہداشت کرتے ہیں مگر ہم ان تمام جانوروں کو اپنا خادم سمجھتے ہیں نہ کہ بزرگ۔ان میں سے جو دودھ نہ دے یا بانجھ ہو جائے تو اسے ہندو اور مسلمان دونوں قصابوں کے پاس فروخت کر آتے ہیں تو یہ کوئی انجو بہ نہیں۔اب رہا یہ سوال کہ میٹھا دودھ دینے کی وجہ سے وہ ماں ہے تو پھر ٹھاکر صاحب آپ یہ بتائیں کہ کیا بھینس، اونٹنی اور بکری وغیرہ کا دودھ کڑوا ہوتا ہے؟ جب ان کا دودھ بھی میٹھا ہے تو گائے اگر ماں ہے تو بھینس نانی ہوئی اور بکری بہن ہوئی تو پھر ان کی عزت ہندوؤں کے دلوں میں کیوں نہیں ہے ؟ اس کی وجہ اب ٹھا کر صاحب ہی بتا ئیں گے کہ ایسا کیوں نہیں ہے؟ (۲) ہر مذہب میں ماں باپ کی ایک جیسی عزت کرنے کا حکم ہے تو پھر ہمارے یہ ہندو بھائی کیا ظلم کرتے ہیں کہ گائے ماں کو مقدس جان کر اتنی زیادہ عزت کرتے ہیں کہ ایسی عزت نہ کرنے والوں کو چیر کر رکھ دینے کو تیار ہیں مگر اپنے باپ بیل کو ہل میں جو تا یا ان کی مدد سے کنواں چلانا ، گاڑی کھینچتا کو لہو چلانا اس پر بوجھ لاد نا اور ذراسی کو تاہی پر مار مار گرفتا