تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 372
7 تاریخ احمد بات - جلد ۴ 364 خلافت ثانیہ کا دسواں سال انہیں اب مکمل کتاب کی ضرورت تھی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ کتاب قرآن کریم ہے۔جیسے جو ان آدمی کے ناپ کے کپڑے بڑھاپے تک کام میں آتے ہیں اسی طرح قرآن کریم اب قیامت تک کام دینے کا دعویدار ہے مگروید میں ایسا کوئی دعوی نہیں ہے کہ میں ساری دنیا کے لئے کامل کتاب ہوں۔جب دید دعویدار ہی نہیں تو مدعی است گواہ چست و الا معالمہ آپ نہ کریں۔ٹھاکر صاحب بولے آپ ہماری باتوں میں دخل نہ دیں۔یہ پنجاب نہیں کہ دھنیا ، جولاھا لوہار ترکھان سب ایک ہی ہوں۔ہم راجپوت ہیں اور مسلمان بادشاہوں نے ان ہمارے بھائیوں کے بزرگوں کو پتاشے کھلا کر مسلمان کر لیا تھا اور ہم لوگوں نے بھی ستی کی کہ انہیں منہ نہ لگایا۔اب ہم نے تہیہ کر لیا ہے کہ ہم انہیں اپنے ساتھ ملا کر رہیں گے خواہ ان کے پاؤں پکڑنا پڑیں یا ان کے آگے ہاتھ جوڑنا پڑیں۔میں نے کہا ٹھا کر صاحب میں بھی آپ کا خونی رشتہ دار ہوں اور پنجابی ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔پنجاب میں گاؤں کے گاؤں راجپوتوں کے آباد ہیں اور میں خود بھی راجپوت کھو کھر ہوں۔کوئی بھٹی ہیں کوئی چوہان راٹھور ہیں۔رھا دھنیا ، جو لاہا، تیلی و موچی وغیرہ تو یہ سب ہندوؤں سے ہی ہمارے ہاں مسلمان ہوئے ہیں اور ادھر بھی موجود ہیں۔مسلمان بھی ہیں اور ہندو بھی۔فرق صرف یہ ہے کہ آپ ان ہندوؤں کو جو چمار بھنگی ، تیلی و لوہار ہیں کمی (کمین) جان کر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ہم لوگ ان کے مسلمان ہو جانے پر اور صاف رہنے کی وجہ سے ان سے نفرت نہیں کرتے کیونکہ یہ سب پیشوں کے نام ہیں اور پیشوں کے بغیر دنیا کا کام چل ہی نہیں سکتا۔اس لئے وہ لوگ ہمارے مددگار ہیں۔کسی بات میں ہم ان کے اور کسی بات میں وہ ہمارے محتاج ہیں۔اناج حاصل کرنے کے لئے اگر وہ ہمارے محتاج ہیں تو جو تا تیل اور صفائی رضائی کے لئے ہم ان کے محتاج ہیں۔اس لئے میں نے بتایا تھا کہ دید ابتدائی قاعدہ ہے۔یہ ساری دنیا میں محبت و اتحاد نہیں پیدا کر سکتا اور اسلام ہی ایسا نہ ہب ہے جو اس کی شرن میں آجائے اس کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے۔ٹھاکر صاحب بولے ہماری مقدس گائے کھانے والے لوگوں نے ہمارا اتحاد نہیں ہو سکتا اور یہ کہ ہم گائے کھانے والوں کو چیر کر رکھ دیں گے۔ہمارا راجپوتی خون اب جوش میں ہے۔جو ہمیں ماں کی طرح میٹھا میٹھا دودھ پلاتی ہے یہ ڈشٹ مسلمان اس کو ذبح کر دیتے ہیں اور اس کا سرتن سے جدا کر دیتے ہیں۔چونکہ وہ راجپوت مسلمان بھی گائے کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس لئے ٹھا کر صاحب نے ان کے جذبات بھڑ کانے کی کوشش کی۔جب وہ ذرا خاموش ہوا تو میں نے کہا تھا کر صاحب آپ تو غصہ میں آگئے۔حالانکہ اپدیشک کا یہ فرض ہے کہ اپنے علم سے محبت کے ساتھ برے فعل کی برائی اور بھلے کام کی بھلائی بیان کرے پبلک کو سوچ بچار کا موقع دے۔اس جگہ کس نے گائے کو تکلیف دی ہے کہ آپ خواہ مخواہ اپنے اور دیگر دوستوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش میں لگ گئے