تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page iv of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page iv

زبان اڑ گئی اپنی ایک اسی بات پر کہ خلافت کی جانب نہ آنا تھا نہ آئے اور جماعت نے گوہر درخشاں چن لیا۔الحمد للہ۔خود حضرت خلیفہ المسح الثانی کو ان لوگوں کے جانے کا رنج بہت تھا۔ان کی گمراہی کا صدمہ تھا۔اور جو واپس آیا اس کی بیحد خوشی آپ کو ہوئی۔میر حامد شاہ مرحوم جو دور بیٹھے غلط فہمی میں پہلے پہل مبتلا کر دیئے گئے تھے جس دن ان کا خط بیعت خلافت کے لئے آیا۔آپ نے سیدھے باہر سے آن کر پہلے حضرت اماں جان کو مبارکباد دے کر یہ بشارت سنائی اور خود فورا بیت الدعا میں جا کر سجدہ شکر ادا کیا اور نفل بھی پڑھے۔میں خود وہاں موجود تھی دیر تک نماز و دعا کے بعد آپ باہر نکلے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی کو کبھی بھی خلافت کی آرزو نہ تھی۔یہ ضلعت محض نصرت الہی سے اور اس کی رضاء سے ان کو پہنایا گیا۔میں نے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ سے ہی جب فتنوں کے دھوئیں اٹھنے شروع ہو گئے تھے آپ کی باتیں سنیں۔آپ کی تڑپ دیکھی تو یہی کہ جماعت فتنہ سے اور عقا ئد تزلزل سے بچ جائیں۔وہ سال خصوصا حضرت خلیفہ اول کی علالت کا بہت سخت تھا۔آپ بے حد متفکر رہتے اور دعاؤں میں مصروف رہتے اور گفتگو کا موضوع اکثر یہی ہوتا۔ہر وقت ایک کرب کی حالت رہتی تھی۔میرے میاں مرحوم کے ساتھ میں نے متواتر گھنٹوں آپ کو بڑے درد کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا ہے اور اسی طرح گھر میں بھی اکثر۔یہ سخت ظالمانہ الزام تھا کہ یہ اپنی خلافت چاہتے ہیں۔میرا تو دل کانپ جاتا ہے آپ کے اندرونی خیالات جانتے ہوئے ایسے سخت افترا این کر۔خواہ مخواہ کی عداوت ہو گئی تھی ایک بے گناہ نے۔اگر خدا تعالیٰ نے ان کو علم بخشا تھا، فراست عطا فرمائی تھی ، خدمت دین کی بچی تڑپ دل میں بھر دی تھی تو یہ اس مولا کریم کا احسان اور اس کا فعل تھا دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ بالائے سرش زهوش مندی جدید می تافت ستاره بلندی صاف قلوب والے محبان صادق خوش ہوتے تھے مگر حاسد ناحق جل کر الزام تراشیوں اور سازشوں پر اتر آئے تھے۔آپ خلیفہ ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو بشارت پسر موعود کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملی تھی اس کا لفظ بلفظ پورا ہوتے ایک عالم نے دیکھ لیا۔آپ کے ہاتھوں سے عظیم الشان کام