تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page iii of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page iii

اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ از قلم حضرت نواب مبارکه بیگم صاحبه مدظلها العالی بر اورم مکرم دوست محمد صاحب شاہد نے تاریخ احمدیت جلد چہارم نیا ایڈیشن جو خلافت ثانیہ کے حالات پر مشتمل ہے اس سال لکھ کر ایک اور کار عظیم و مبارک ثواب حاصل کیا ہے۔خدا تعالیٰ اجر نیک بخشے اور اس کتاب کو بہت مقبول و موثر بنائے اور ان کے قلم میں برکت بخشے۔اور خاص نصرت فرمائے آمین۔۱۴ مارچ ۱۹۱۴ ء کا دن ایک خاص دن تھا۔دل دھڑک رہے تھے۔لبوں پر دعا ئیں تھیں کہ خدا تعالیٰ جماعت کو فتنہ سے بچالے اور خلافت کا قیام ہو جائے۔وہ خلافت جو مبارک ہو اور کوئی پیج ایسا شامل نہ ہو کہ بنیادی عقائد احمدیت کو کمزور کر نیوالا ہو۔گو اول دعا قیام خلافت کی تھی اور کسی بھی خاص فرد کا خیال ہمارے دلوں میں نہ تھا مگر یہ ضرور تھا کہ پچھلے چھ سالہ حالات سے جو بعض عناصر کے متعلق علم ہوا تھا۔اس سے بہت خوف تھا کیونکہ حضرت سید ناخلیفہ اسیح الثانی کی تو یہی تڑپ ظاہر تھی کہ خلافت قائم رہ جائے۔یہ لوگ جس کو بھی منظور کریں ہم بیعت کریں گے مگر اس وقت جماعت اس خطر ناک اقدام سے بچ جائے۔شام ہو چکی تھی۔باہر سے کوئی خبر نہ آسکتی تھی۔حضرت اماں جان اور میں کوٹھی دار السلام کے برآمدے میں خاموش منتظر بیٹھے تھے کہ باہر سے آواز آئی۔مبارک ہو خلیفہ کا انتخاب ہو گیا۔حضرت میاں صاحب کی بیعت ہوگئی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہزار شکر کیا۔وہ وقت مسرت اور خوشی کا بھی تھا مگر ساتھ غم بھی تھا۔ایک تو وہ جو پہلے ہی تھا یعنی حضرت خلیفہ اول کی جدائی کا۔دوسراغم چند پرانے لوگوں کے محض تعصب اور ضد اور بغض وکینہ کی وجہ سے سلسلہ سے الگ ہو جانے کا تھا۔(ان میں سے دو چار تو اصل جڑ تھے فتنہ کی اور کچھ محض دوستی کی وجہ سے گھٹتے چلے گئے تھے ) کہ آخر یہ ان کو ہو کیا گیا ؟ آنکھوں والے جان بوجھ کر اندھے کیوں بن گئے۔مگر خدا تعالیٰ کا منشاء اسی صورت میں پورا ہونا تھا اور "محمود" کی خلافت مقدر تھی۔ایسی پٹی بندھی ایسی