تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 371 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 371

تاریخ احمدیت - جلد ۴ - 363 ہم سب کی شکلیں جداگانہ را گانہ ، عقلیں جداگانہ علم جداگانہ اور اعتقاد بھی جدا گانہ ہیں لیکن بعض باتوں میں ہم سب ایک جیسے ہیں اور بعض میں مختلف ہیں اسی طرح نباتات، جمادات اور حیوانات کا حال ہے۔درخت کا لفظ تو سب کے لئے بولا جاتا ہے مگر کوئی کیکر ہے تو کوئی ڈھاک ہے ، کوئی شہتوت یا آم ہے تو کوئی نیم ہے غرضیکہ نام کا اشتراک ہے مگر تاثیرات اور فوائد سب ایک نہیں مگر ہم سب کے اعتقادات جو الگ الگ قائم ہو چکے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو یہ ایک ہو سکتے ہیں اور یہ کو شش اسی طرح ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے آریہ عقائد بیان کریں ہم سن کر ان پر غور کرتے ہیں۔اگر وہ ہمارے دین حق سے اچھے ہوئے تو ہم ان کو قبول کرلیں گے۔پھر میں اپنے ناقص علم کے ساتھ اسلامی عقائد و اخلاق بیان کروں گا۔پھر آپ ان پر غور کریں پھر ان دونوں میں جو اچھے ہوں گے ان پر ہم دونوں اکٹھے ہو جائیں گے۔سارے مجمع نے اس بات کو بہت پسند کیا مگر ٹھاکر صاحب نے کہا کہ آپ سے ہماری کوئی بات نہیں ہے۔آپ پنجابی ہیں۔میں تو اپنی برادری کو اپنے ساتھ ملا کر جاؤں گا۔میں نے کہا ہم سب مہادیو یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اس وجہ سے آدمی کہلاتے ہیں۔اس لئے سب برادری ہیں۔جب خدا کا بنایا ہوا سورج ساری دنیا کے کام آتا ہے، اس کی ہوا، پانی، آگ ، چاند ستارے آسمان اور زمین غرضیکہ اس کی بنائی ہوئی ہر چیز دنیا کے کام آتی ہے تو خدا کا دین بھی ایک ہونا چاہئے اور اس وقت ضرورت بھی ساری دنیا میں ایک ہی دین کی ہے تاکہ جس طرح سب کے جسم ایک جیسے ہیں ، اعتقاد بھی ایک جیسا ہو اور آپس میں مستقل اتحاد پیدا ہو جائے۔اگر ہر برادری کا مذ ہب علیحدہ علیحدہ ہو تو پھر دن رات جھگڑے ہی ہوتے رہیں گے۔ٹھاکر صاحب بولے کہ دنیا میں جس طرح پہلے دن سے ایک ہی سورج چلا آ رہا ہے اسی طرح دنیا میں ابتدائی کتاب وید مقدس چلی آرہی ہے اگر اس پر تمام دنیا ایمان لے آئے تو سب جھگڑے آج ہی ختم ہو جاتے ہیں۔میں نے ٹھاکر کا شکریہ ادا کیا کہ آخر آپ نے بھی محسوس کر ہی لیا کہ میرا بیان کرنا صحیح تھا مگر ٹھاکر صاحب آپ نے میرے پہلے بیان پر غور نہیں کیا کہ بعض باتیں تو سب کی مشترک ہیں لیکن بعض میں تبدیلی ضروری ہے۔مثلا بارش بھی ابتدائے زمانہ سے چلی آ رہی ہے۔مگر ہمیں اس کی ہر وقت ضرورت نہیں ہوتی۔اگر ہمیں کسی وقت اس کی ضرورت ہے تو کسی وقت دھوپ کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔آپ جانتے ہیں کہ پہلی جماعت کا قاعدہ صرف پہلی جماعت کے لئے ہی ہوتا ہے۔لیکن اس کے حروف ساری کتابوں میں استعمال ہوتے ہیں اور طالب علم کی استعداد کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی کتابیں بھی بدلتی جاتی ہیں۔اسی طرح بچپن میں بھی ہمیں لباس ہی پہنایا جاتا تھا مگر اب جوانی میں ہم وہ لباس نہیں پہن سکتے کیونکہ ہم بڑے ہو چکے ہیں۔اسی طرح اگر ابتداء میں دید تھا تو وہ ابتدائی قاعدہ کی طرح تھا۔اب جب کہ دنیا کی استعداد بڑھ چکی ہے تو