تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 369 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 369

تاریخ احمدیت جلد ۳ 361 رو ہو گئے۔ظہر کے وقت علی گنج کی تحصیل میں ایک گاؤں گڑھی تھا جو پختہ سڑک کے کنارہ پر تھا وہاں پہنچے۔بھائی عبد الرحمان صاحب نے ہمیں سڑک پر ہی اتار دیا کہ آپ اس گاؤں میں جہاں چاہیں ڈیرہ لگا لیس میں اب واپس جاتا ہوں۔خدا حافظ کہہ کر ای یکہ پر واپس روانہ ہو گئے۔ہم اپنا سامان اٹھا کر اسی گاؤں کی ایک چھوٹی سی پختہ بیت میں پہنچے۔چھوٹے چھوٹے بچے جن کی زبان سے ہم واقف نہ تھے ایک سرے کو کہہ رہے تھے۔”ارے یہ کوہ ہے ؟ یعنی یہ کون ہے ؟ تھوڑی دیر کے بعد ایک معمر آدمی جس کا نام ممتاز علی خان تھا آیا۔اس نے بڑی عمدہ سلیس اردو میں ہمارے ساتھ مہذبانہ طریق سے بات کی۔ہمیں اس سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔وہ تعلیم یافتہ آدمی تھا۔ہم نے اسے اس ملک میں آنے کی غرض بتائی۔وہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ میں پہلے آپ کے کھانے کا انتظام کر آؤں پھر بیٹھ کر باتیں کریں گے۔بابو صاحب کہنے لگے کہ مولوی صاحب میں تو اب نہیں رہوں گا آپ کوئی اور گاؤں قریب ہی تلاش کرلیں۔میں نے کہا بہت اچھا۔انشاء اللہ تعالی میں بھی کوئی گاؤں تلاش کرلوں گا۔آپ بے فکر رہیں۔رات کو کافی دوست اکٹھے ہو گئے۔میں نے ان سے ارد گرد کے دیہات کا پتہ لیا۔ان سے قسم قسم کی باتیں کر کے ان سے تعلقات پیدا کئے۔وہ لوگ مجھ سے زیادہ مانوس ہو گئے کیونکہ بابو صاحب کم گو تھے اور مجھے باتیں کرنے کا شوق پرانا تھا۔رات کے بارہ بجے مجلس برخواست ہوئی۔میں نے کچھ طالب علم بھی بابو صاحب کو مہیا کر دیئے۔صبح کے وقت میں نے نماز پڑھائی جس میں دو تین مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی۔دن کے دس بجے میں اپنا بستر اور دیگر سامان اٹھا کر وہاں سے روانہ ہوا۔ابھی دو میل کے قریب ہی سفر کیا تھا ایک گاؤں میں بیت نما بوسیدہ سامکان دیکھا۔میں نے ایک مقامی دوست سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ ملکانہ مسلمانوں کا گاؤں ہے۔اور اس کا نام نگلہ گھنو ہے۔میں اس بوسیدہ سے مکان میں پہنچا۔اس میں محراب بھی بنا ہوا تھا اور فرش پر گھاس اگا ہوا تھا۔وہیں میں نے اپنا ڈیرہ جمالیا۔وہاں پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔کسی قسم کی کوئی گھبراہٹ نہ تھی۔تھوڑی دیر کے بعد ایک معمرسی عورت آئی۔میں نے السلام علیکم کہا۔اس نے کہا بیٹے جیتے رہو۔تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کام ہے۔میں نے اپنی آمد کی غرض بتائی کہ آریوں سے اس قوم کو بچانے کے لئے ہمارے پیارے امام نے ہمیں قادیان سے بھجوایا ہے۔تفصیل سے باتیں بتا ئیں تو وہ بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی کہ یہاں کے لوگ بہت جاہل ہیں ان سے گھبرا نہ جاتا۔میں نے کہا اماں جی اگر یہ لوگ ہمارے بھائی جاہل نہ ہوتے تو آریہ ان پر حملہ کیوں کرتے۔وہ یہ کہتے ہوئے چلنے لگی کہ میں آپ کے لئے " ستوا" یعنی ستو لاتی ہوں۔میں نے کہا اماں جی آپ کا شکریہ۔میرے پاس ستو بھی ہے اور بھنے ہوئے چنے اور جو موجود ہیں آپ کوئی تکلیف نہ کریں۔ہمیں حضرت صاحب کا حکم ہے کہ اپنا ہی کھانا ہے کسی کو اس کی تکلیف