تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 362 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 362

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 354 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال کبھی نہیں ہوئی جتنی کہ دیگر مذاہب کی بد گوئی کرنے کے وقت ہوتی ہے "۔مجاہدین احمدیت کی ابتدائی سرگرمیاں یہ دہ حالات تھے جن میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے علاقہ ارتداد میں قدم رکھا۔حضرت چوہدری صاحب نے اپنا مرکز شہر آگرہ میں قائم کر کے مجاہدین کو مین پوری ایٹہ ، فرخ آباد علی گڑھ کرنال اور مظفر نگر کے اضلاع سے صحیح صحیح حالات کی رپورٹ کے لئے بھیجا اور دس دن میں لوٹنے کی تاکید کردی - جن علاقوں میں شدھی ہو چکی تھی۔یا ہونے کی افواہ تھی وہاں بھی مبلغ بھجوا دیئے۔خصوصاً ریاست بھرت پور کے اکرن نامی مشہور گاؤں میں جہاں جمیا نامی ایک بہادر راجپوت بڑھیا پورے گاؤں کے شدہ ہونے کے باوجود اسلام پر قائم تھی۔جمیا کے بیٹوں نے آریوں کے دھمکانے پر اس سے بار بار کہا کہ شدہ ہو جاؤ تمام آریہ اور ریاست کے حاکم کہہ رہے ہیں مگر یہ نیک بخت عورت نہ مانی۔اسے بہت دکھ دیئے گئے اور اس کا بائیکاٹ کر دیا گیا لیکن وہ یہی کہتی رہی کہ ”بیٹا میں اسلام کو نا ہیں چھوڑ سکت چاہے گردن کٹ جائے "۔اسی طرح ملکانہ کے مشہور قصبہ نو گاؤں میں حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ مقرر ہوئے۔جو اصحاب علاقہ کا ابتدائی دورہ کرنے کے لئے بھجوائے گئے تھے وہ جلد ہی پورے محاذ کا دورہ کر کے نہایت اہم معلومات لے کر واپس آئے۔اس سلسلہ میں انہیں سخت مجاہدہ کرنا پڑا۔چنانچہ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی، صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے۔ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے اور دو سرے مجاہدین نے تیز اور چلچلاتی دھوپ میں کئی کئی میل روزانہ پیدل سفر کیا۔بعض اوقات کھانا تو الگ رہا ان کو پانی بھی نہ مل سکا۔کھانے کے وقت یا تو اپنا بچا کھچا باسی کھانا کھاتے یا بھونے ہوئے دانے کھا کر پانی پی لیتے اور اگر سامان میسر آسکتا تو آٹے میں نمک ڈال کر اپنے ہاتھوں روٹی پکا کر کھالیتے۔رات کو جہاں جگہ ملتی سو جاتے۔مکانوں نے ان کی خاطر تواضع دودھ سے کرنا چاہی۔مگر انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا۔بعض رؤسانے مبلغین کے بستر اور سامان کے لئے مزدور دینا چاہے مگر یہ جانباز سپاہی اپنا سامان اٹھائے پیدل سفر کرتے رہے اور ایک گاؤں میں کام ختم ہونے پر اس بات کی پروا کئے بغیر کہ کیا وقت ہے یا دوسرا گاؤں کتنے فاصلے پر ہے فورا آگے روانہ ہو جاتے انہوں نے بعض اوقات اندھیری راتوں میں ایسے تنگ اور پُر خطر راستوں سے سفر کیا۔جہاں جنگلی سور اور بھیڑیئے بکثرت پائے جاتے تھے۔یہ مجاہد ملکانوں پر پانی تک کا بھی بوجھ نہ ڈالتے۔اور یہ کہتے کہ آپ لوگوں کو دین سکھانے کے لئے ہمارے آدمی آئیں گے۔جو آپ سے کچھ نہ لیں گے بلکہ اپنا خرچ بھی آپ برداشت کریں گے۔یہ لوگ چونکہ اپنے مولوی صاحبان کی شکم پروریوں کی وجہ سے