تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 11
تاریخ احمدیت۔جلد " ۴ 11 حضرت خلیفه استان الثانی کے سوا نه قبل از خلافت (۴) مسجد مبارک میں ایک ستون مغرب سے مشرق کی طرف کھڑا ہے اس کے شمال میں جو حصہ مسجد کا ہے یہ اس زمانہ کی مسجد تھی اور اس میں نماز کے وقت کبھی ایک اور کبھی دو سطریں ہوتی تھیں اس ٹکڑہ میں تین دیوار میں ہوتی تھیں۔ایک تو دو کھڑکیوں والی جگہ میں جہاں آج کل پہرہ دار کھڑا ہوتا ہے اس حصہ میں امام کھڑا ہوا کرتا تھا۔پھر جہاں اب ستون ہے وہاں ایک اور دیوار تھی اور ایک دروازہ تھا۔اس حصہ میں صرف دو قطار میں نمازیوں کی کھڑی ہو سکتی تھیں۔اور فی قطار غالبا پانچ سات آدمی کھڑے ہو سکتے تھے اس حصہ میں اس وقت کبھی ایک قطار نمازیوں کی ہوتی اور کبھی دو ہوتی تھیں۔مجھے یاد ہے جب اس حصہ مسجد میں نمازی بڑھے اور آخری یعنی تیسرے حصہ میں نمازی کھڑے ہوئے تو ہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی تھی۔گویا جب پندرھواں یا سولہواں نمازی آیا تو ہم حیران ہو کر کہنے لگے کہ اب تو بہت لوگ نماز میں آتے ہیں۔۔۔۔۔؟ (۵) مجھے یاد ہے۔ہمارا ایک کچا کوٹھا ہو تا تھا۔اور بچپن میں کبھی کھیلنے کے لئے ہم اس پر چڑھ جایا کرتے تھے۔اس پر چڑھنے کے لئے جن سیڑھیوں پر ہمیں پڑھنا پڑتا تھا۔وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے چڑھتی تھیں اس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں آکر احمدی بھی ہو گئیں مجھے دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ " جیہو جیما کاں اوہو جیسی کو کو " میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندوستانی ہیں۔اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہو تا۔اس پنجابی فقرہ کے معنی نہیں سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جیسے کو ا ہوتا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں۔کوے سے مراد (نعوذ باللہ ) تمہارے ابا ہیں اور کو کو سے مراد تم ہو۔مگر پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ رہی تائی صاحبہ اگر میں کبھی ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں میرے لئے گدا بچھاتیں اور احترام سے بٹھاتیں۔اور ادب سے متوجہ ہوتیں۔اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور اور ضعیف ہیں ہمیں نہیں۔کوئی تکلیف نہ کریں تو وہ کہتیں کہ آپ تو میرے پیر ہیں گویادہ زمانہ بھی دیکھا جب میں " کو کو تھا اور وہ بھی جب میں پیر بنا " - (1) اس جگہ پر جہاں اب مدرسہ احمدیہ کے لڑکے پڑھتے ہیں۔ایک ٹوٹی ہوئی فصیل ہوا کرتی تھی۔ہمارے آباؤ و اجداد کے زمانے میں قادیان کی حفاظت کے لئے وہ کچی فصیل بنی ہوئی تھی جو خاصی چوڑی تھی۔اور ایک گڈا اس پر چل سکتا تھا۔پھر انگریزی حکومت نے جب اسے تڑوا کر نیلام کر دیا۔تو اس کا کچھ ٹکڑا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مہمان خانہ کی نیت سے لے لیا تھا۔وہ ایک -