تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 361
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 353 خلافت مانید کار سواں سال ڈوب مرنے کی کوشش کی جنہیں بڑی مشکل سے بچایا گیا۔جہاں جہاں آریوں کا زور بڑھتا جاتا تھا شدھ سے انکار کرنے والوں کا قافیہ حیات تنگ کیا جا رہا تھا تاوہ بھی ارتداد اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں۔اس سلسلہ میں ایک اہم واقعہ جو ترتیب کے لحاظ سے آگے آنا چاہئے۔مگر آریوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کا نمونہ بتانے کے لئے ضروری ہے۔یہیں درج کئے دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ فرخ آباد کے گاؤں بھڑا میں ایک نوجوان شہزادہ نامی نے اپنی بہادر مسلمان بیوی "بسم اللہ " کو شدھ ہونے کے لئے کہا مگر اس نے صاف انکار کر دیا جس پر شہزادہ نے اسے لاٹھی سے مار مار کر نیم جان کر دیا وہ بے چاری آخر دم تک مرغ بسمل کی طرح تڑپتی رہی اور یہ کہتے ہی دم تو ڑ دیا کہ میں مرجاؤں گی مگر شدھ نہیں ہوں گی اس حادثہ کے بعد آریوں نے اس مظلومہ کی لاش دفن کر دی اور مشہور کر دیا کہ وفات ہیضہ سے ہوئی ہے بسم اللہ کا باپ نور خان ایک غریب اور بے کسی آدمی تھا۔بھاگا بھاگا اپنے مولویوں کے پاس گیا مگر کسی نے پروانہ کی۔آخر وہ فرخ آباد میں ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم کے پاس گیا۔انہوں نے آگرہ کے مرکز میں اطلاع دی اور شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ جو آگرہ میں مصروف جہاد تھے۔فرخ آباد آئے اور نور خاں کی طرف سے عدالت میں درخواست دلوائی اور خاص توجہ سے مقدمہ کی پیروی کی۔قصہ کو تاہ لاش نکلوائی گئی۔اور ڈاکٹری معائنہ بھی ہوا۔مگر اوپر سے نیچے تک تمام کارروائی ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہوئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم صاف بری ہو گیا - یہ تمام تر حربے اتنے ناروا اور خلاف اخلاق تھے کہ مشہور ہندو لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی کھلا اعتراف کرنا پڑا کہ۔"جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں تحریک شدھی کی بنیاد مختلف اسباب پر ہے اور نا پسندیدہ طریق پر اسے چلایا جا رہا ہے۔بجائے امن و یکجہتی کے اس کی وجہ سے نفرت و حقارت بے اعتمادی اور تلخی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔رواداری کا قطعی فقدان ہو گیا ہے۔اور ہم میں سے اچھے اچھے اشخاص بھی قابل شرم شکوک وشبہات سے بری نہیں ہیں "۔پھر ان ہی دنوں مسٹر گاندھی نے شدھی کے علمبردار سوامی شردھانند اور آریوں کی نسبت اپنی یہ واضح رائے دی کہ۔" آپ جہاں کہیں بھی آریہ سماجیوں کو پائیں گے وہاں ہی زندگی اور سرگرمی موجود ہوگی تنگ نظری اور لڑائی کی عادت کی وجہ سے وہ دیگر مذاہب کے لوگوں سے لڑتے رہتے ہیں۔شردھا نند جی۔۔۔۔کو بھی اس سپرٹ کا حصہ وافر ملا ہے۔۔۔۔۔۔آریہ سماجی اپریشک (مبلغ) کو اتنی خوشی