تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 360
تاریخ احمدیت جلد ۳ 352 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال درد مند دل رکھتے تھے چوہدری صاحب کی ملاقات کے لئے آئے اور جماعت کا قافلہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم تو آپ ہی لوگوں کے منتظر تھے۔یہ کام بہت نازک ہے اور آپ ہی کی کوشش اور تندہی سے خاطر خواہ طور پر انجام پاسکے گا۔اچھنیرہ میں مجلس " نمائندگان تبلیغ " کے نمائندوں میں شدید اختلاف رونما ہو چکے تھے اور ان کے دور ہونے کی کوئی صورت نہیں تھی۔تاہم حضرت چوہدری صاحب نے ان تینوں اصحاب کی معرفت کہلا بھیجا کہ ہم اس انجمن سے ہر طرح ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔مگر باہمی چپقلش کے انتہا تک پہنچنے کی وجہ سے ان نمائندوں میں اتفاق نہ ہو سکا۔لہذا انجمن کی طرف سے چوہدری صاحب کو اطلاع آئی کہ آپ لوگ اپنا کام الگ شروع کر دیں اور ساتھ ہی احمدیوں کے لئے آگرہ کے ماحول کا ایک ایسا علاقہ مقرر کر دیا گیا۔جہاں ارتداد پورے زوروں پر تھا یعنی اس علاقہ کا ایک حصہ تو مرتد ہو چکا تھا اور باقی علاقہ ارتداد سے خطر ناک طور پر متاثر تھا۔اس علاقہ کے راجپوتوں اور مولوی صاحبان نے متفق ہو کر کہا کہ اس علاقہ میں خطرہ بہت سخت ہے اس لئے ہم یہ کام آپ ہی کے سپرد کرتے ہیں۔آریوں کی طرف سے شدھی کے مختلف ذرائع وہ علاقہ جو جماعت احمدیہ کے لئے مقرر کیا گیا بلاشبہ سب سے اہم میدان جنگ تھا اور جیسا کہ احمدی مجاہدین کو یہاں پہنچ کر معلوم ہوا۔یہاں آریہ چپہ چپہ پر شدھی میں مصروف تھے اور اس غرض کے لئے اس پراپیگنڈہ کے علاوہ جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ہر قسم کے ناروا طریقے استعمال میں لاز ہے تھے۔کہیں روپے کا لالچ دے رہے تھے اور کہیں ظلم و تشدد کر کے انہیں اپنی زمین اور مکان سے بے دخل کر رہے تھے۔اور یہ سب ہندو راجوں اور ہندو افسروں کی پشت پناہی میں ہو رہا تھا۔مثلاً ضلع فرخ آباد کی ایک چھوٹی سی ریاست تر وانامی تھی۔جس کا راجہ شدھی کا بڑا زبر دست حامی تھا۔وہ خود دیہات میں جاتا۔سائبان لگ جاتے حلوہ پوری پکنی شروع ہو جاتی۔راجہ غریب ملکانوں سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا۔ان کے قرضے اتارتا۔اس طرح بھولے بھالے مالکانے شدھ : ونے کے لئے تیار ہو جاتے۔ایک اور طریق یہ دیکھنے میں آیا کہ گاؤں کے چند شوریدہ سر آوارہ طبع لوگوں کو چن لیتے اور ان پر اپنا اثر جما کر باقی لوگوں کو بھی شدھ کر لیتے۔جس گاؤں کو شدھ کرنا ہو تا تھا وہاں کی ملکانہ آبادی سے کئی گنا آدمی لے کر موٹروں ، گاڑیوں اونٹوں ، رتھوں ، بندوقوں اور تلواروں کے ساتھ پہنچتے اور اس نمائش سے مرعوب کر کے مسلمانوں کو شدھ کر لیتے۔ضلع آگرہ کے ایک گاؤں (فتح پور میں جب آریہ گئے تو بعض مسلمان عورتوں نے جو شدھی کے خلاف تھیں تنگ آکر کنویں میں