تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 359 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 359

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 351 خلافت نمائید کار سواں سال کر اور ان کی اجازت سے مع الخیر واپس ہوں۔خدا آپ کے ساتھ ہو۔والسلام - خاکسار: میرزا محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی قادیان دارالامان - ضلع گورداسپور ۲۱ / اپریل ۱۹۲۳ء حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی شدھی مجاہدین احمدیت شدھی کے علاقہ میں کے خلاف اپنی سکیم یکم اپریل ۱۹۲۳ء سے جاری کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔مگر حالات کی نزاکت کے پیش نظر حضور نے وسط مارچ ۱۹۲۳ ء ہی سے اس کا آغاز فرما دیا۔چنانچہ آپ کی ہدایت پر صیغہ انسدادار مداد مکان" کے نام سے ایک نیا دفتر کھولا گیا اور اس کے افسر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور نائب حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب عبداللہ خاں صاحب تجویز ہوئے۔اس مرکزی ادارہ کے قیام کے ساتھ آپ نے حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو امیر المجاہدین مقرر فرمایا۔اور ان کی سرکردگی میں ۱۲ / مارچ ۱۹۲۳ء کو مجاہدین کا پہلا دفد روانہ فرمایا- اس پہلے وفد کے مجاہدین مندرجہ ذیل تھے۔(1) حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے (امیر المجاہدین) (۲) حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی۔اے۔بی۔ٹی۔(۳) شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے (۴) صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے (۵) صوفی محمد ابراہیم صاحب بی۔ایس۔سی۔(۲) ڈاکٹر نور احمد اسٹنٹ سرجن (۷) حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب ( نو مسلم ، قادیانی) (۸) ماشہ محمد عمر صاحب نو مسلم (۹) ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم (۱۰) چوہدری بدر الدین صاحب (۱۱) مولوی ظفر اسلام صاحب (۱۲) میان عبدالسمیع صاحب (۱۳) محمد ابراہیم صاحب نا تک (۱۴) فتح محمد صاحب ملتانی سپاہی (۱۵) عزیز احمد صاحب (۱۶) عبد اللطیف صاحب گجراتی (۱۷) میاں خدا بخش صاحب (مومن پٹیالوی) (۱۸) حبيب الرحمن صاحب افغان (۱۹) سید صادق حسین صاحب اٹارہ (جن کو اٹاوہ سے شامل وفد ہونے کی ہدایت دی گئی۔اس دفد کی روانگی کے چند دن بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس بھی آگرہ اور اس کے ماحول میں مناظرات اور تقاریر کے لئے بھجوائے گئے۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی قیادت میں دستہ ۱۲ / مارچ ۱۹۲۳ء کو روانہ ہو کر ۱۴/ مارچ ۱۹۲۳ء کو بمقام اچھنیرہ ضلع آگرہ میں پہنچا۔یہاں چوہدری نذیر احمد خاں صاحب وکیل ریاست جے پور اور نیاز محمد خان صاحب جے پور اور محبوب خاں صاحب جو اپنے علاقہ کے سرکردہ غیر احمدی راجپوتوں میں سے تھے اور اسلام کے لئے