تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 356 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 356

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ۳۲ و 348 خلافت ثانیہ کا دسواں سال دشمن تمہارے کام کو یہ نقصان پہنچانے کے لئے ہر طرح کی تدابیر کو اختیار کرے گا۔تمہاری ذرا ی بے احتیاطی کام کو صدمہ پہنچا سکتی ہے۔پس فتنہ کے مقام سے دور رہو اور ایسی مجلس میں نہ جاؤ جس میں کوئی تہمت لگا سکے۔کسی شخص کے گھر میں نہ جاؤ۔جب تک تجربہ کے بعد ثابت نہ ہو جائے کہ وہ دشمن نہیں دوست ہے۔کھلے میدان میں لوگوں سے باتیں کرو۔۳۳۔غصہ کی عادت ہمیشہ ہی بُری ہے مگر کم سے کم اس سفر میں اس کو بالکل بھول جاؤ کسی وقت غصہ میں آکر اگر ایک لفظ بھی سخت تمہارے منہ سے نکل گیا یا تم کسی کو دھمکی دے بیٹھے یا کسی کو مار بیٹھے تو اس کا فا ئدہ تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔مگر آریہ لوگ اس کو اس قدر شہرت دیں گے کہ ہمارے مبلغوں کو ان کے حملوں کے جواب دینے سے فرصت نہ ملے گی اور سلسلہ کی سخت بد نامی ہوگی۔پس گالیاں سن کر دعا دو اور عملا دی۔اور جوش دلانے والی بات کو سن کر سنجیدگی سے کہہ دو کہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم تمہیں اس کا جواب دینے سے مانع ہے۔تم پھر بھی اس کے خیر خواہ ہی رہو۔اپنے مخالف سے بھی کہو کہ تم اس کے دشمن نہیں ہو بلکہ تم باوجود اس کی عداوت کے اس کے خیرہ خواہ ہو کیونکہ تم کو خدا تعالیٰ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔اگر کوئی مار بھی بیٹھے تو اس کی پرواہ نہ کرو۔یاد رکھو کہ لوگ بزدل کو حقیر جانتے ہیں اور وہ فی الواقعہ حقیر ہے لیکن تکلیف اٹھا کر صبر کرنے والا اور اپنے کام سے ایک بال کے برابر نہ ہٹنے والا بزدل نہیں وہ بہادر ہے۔بزدل وہ ہے جو میدان سے بھاگ جاتا ہے یا اپنی کوششوں کوست کر دیتا ہے جو مار کھاتا ہے اور صبر کرتا اور اپنے کام کو جاری رکھتا ہے۔وہی در حقیقت بہادر ہے کیونکہ بہادری کا پتہ تو اسی وقت لگتا ہے جب اپنے سے طاقتور کا مقابلہ ہو اور پھر بھی انسان نہ گھبرائے۔۳۴۔میں نے بار بار آہستگی کی تعلیم دی ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مہینوں اور برسوں میں کام کرو۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدم بقدم چلو۔جب قدم مضبوط جسم جائے تو پھر دوسرے قدم کے اٹھانے میں دیر کرنا اپنے وقت کا خون کرنا اور اپنے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔اگر گھنٹوں میں کام ہو تا ہے تو گھنٹوں میں کرو۔اگر منٹوں میں کام ہوتا ہے تو منٹوں میں کرو۔صرف یہ خیال کر لو کہ اس کی رفتار ایسی تیز نہ ہو کہ خود کام ہی خراب ہو جائے یا آئندہ کام پر اس کا بد اثر پڑے۔ایسے علاقوں میں رات نہ گزارو جہاں فتنہ کا ڈر ہو۔اگر وہاں رات بسر کرنی ضروری ہے تو شہر میں نہ رہو۔شہر سے باہر کسی پرانے مکان یا کسی جھونپڑے میں یا پاس کے کسی گاؤں میں رہو صبح پھر ہیں آجاؤ۔یہ بزدلی نہیں حکمت عملی ہے۔۳۰۔اس عرصہ میں اگر میرا نے ہندوؤں کو تبلیغ کر سکو تو اس موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دوں مگر سوائے