تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 9 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 9

9 سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت لیکن خنازیر کا مرض برابر اسے رہا بلکہ بعض دفعہ خنازیر کی گلٹیاں پھول کر گیند کے برابر برابر ہو جاتیں تاریخ احمدیت شد اور مسلسل بارہ تیرہ سال تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ڈاکٹر اور طبیب مختلف ادویہ کی اسے مالش کراتے اور کھانے کے لئے بھی کئی قسم کی دوائیں دیتے۔جب وہ لڑکا جوان ہوا تو اس بیماری نے دوسری شکل اختیار کرلی اور اسے سات آٹھ مہینے متواتر بخار آتا رہا۔اطباء کہتے تھے کہ اس کا بچنا مخدوش ہے اور اب شاید ہی یہ جانبر ہو سکے "۔بچپن کے بعض سفر اور ان کے دلچسپ واقعات زندگی کے چھ ابتدائی سالوں میں علیہ السلام کے ساتھ کئی سفروں میں رفاقت میسر آئی۔مثلاً۔-1 سیدنا محمود کو حضرت مسیح موعود ۱۸۸۹ء کی پہلی سہ ماہی کا سفر لدھیانہ جس میں بیعت اوٹی ہوئی۔آخر اکتوبر ۱۸۸۹ء کا سفر لدھیانہ جو حضور نے حضرت میر ناصر نواب صاحب کے اہل خانہ کی عیادت کے سلسلہ میں اختیار فرمایا۔دعوئی مسیحیت کے بعد پہلا سفر لدھیانہ (۳/ مارچ ۱۸۹۱ء تا اگست ۱۸۹۱ء) TO حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے "سیرت مسیح موعود" میں اس سفر کا ایک نہایت دلچسپ واقعہ لکھا ہے جو آپ کا چشم دید ہے۔لکھتے ہیں :- محمود کوئی تین برس کا ہو گا۔آپ لدھیانہ میں تھے۔میں بھی وہیں تھا۔گرمی کا موسم تھا مردانہ اور زنانہ میں ایک دیوار حائل تھی۔آدھی رات کا وقت ہو گا جو میں جاگا اور مجھے محمود کے رونے اور حضرت کے ادھر ادھر کی باتوں میں بہلانے کی آواز آئی۔حضرت اسے گود میں لئے پھرتے تھے اور وہ کسی طرح چپ نہیں ہو تا تھا۔آخر آپ نے کہا۔دیکھ محمود وہ کیسا تارا ہے۔بچہ نے نئے مشغلہ کی طرف دیکھا اور ذرا چپ ہوا۔پھر وہی رونا اور چلانا اور یہ کہنا شروع کر دیا " ابا تارے جانا کیا مجھے مزہ آیا اور پیارا معلوم ہوا۔آپ کا اپنے ساتھ یوں گفتگو کرنا۔یہ اچھا ہوا ہم نے تو ایک راہ نکالی تھی اس نے اس میں بھی اپنی ضد کی راہ نکالی۔آخر بچہ رو تا رو تا خود ہی جب تھک گیا چپ ہو گیا۔مگر اس سارے عرصہ میں ایک لفظ بھی سختی کا یا شکایت کا آپ کی زبان سے نہ نکلا " " - سفر دہلی (ستمبر ۱۸۹۱ء) دہلی میں نواب لوہارو کی دو منزلہ کو بھی واقع محلہ بیمار ان میں قیام ہوا ۱۸۹۲ء کے ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے لاہور پھر سیالکوٹ کا سفر اختیار فرمایا جس میں حضرت ام المومنین اور سید نا محمود بھی ہمراہ سفر تھے۔۲- وسط ۱۸۹۳ء جنگ مقدس (امرتسر) کے سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب