تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 334 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 334

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 326 خلافت ماشیه کار سواں سال مسلمانوں نے نہ تو کبھی پہلے ان کی طرف توجہ کی تھی۔اور نہ وہ اب اس کی ضرورت سمجھتے تھے آریوں نے میدان بالکل خالی پایا۔اور اسلام کے خلاف برسوں زہریلا اثر ان میں پھیلایا۔اور جب تمام علاقوں کی اچھی طرح دیکھ بھال اور جانچ پڑتال کر کے اطمینان کر لیا۔کہ ان کے دونوں حربے کارگر ثابت ہوئے ہیں۔اور تمام مختلف علاقوں کے چھوٹے بڑے سارے میدان ہموار و صاف ہو چکے ہیں تو انہوں نے اپنے کام کو اعلیٰ سے اعلیٰ پیمانے پر پہنچانے کا پورا پورا عزم کر لیا اور صوبہ یو۔پی کے اضلاع ہردوئی۔شاہ جہان پور، فرخ آباد ، بدایوں، متھرا ایٹہ ، اٹاوہ، آگرہ، مین پوری، علی گڑھ اور ریاست ہائے جیسور اور بھرت پور اور ترداد غیرہ سب ان کے عزم بالجزم کی زد میں آگئے۔اور شدھی کا سلسلہ بڑے جوش و خروش اور دھوم دھام سے جاری ہو گیا۔مسلمان علماء کا افسوسناک طریق عمل ان اضلاع اور ان کے ماحول میں بسنے والے علماء اور مسلمانوں کے مشہور ادارہ ندوۃ العلماء نے شدھی کی اس تحریک شدید کے مقابلہ و تدارک اور انسداد کی کوشش سے متعلق جس مجرمانہ غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کیا۔اس کی تفضیل علامہ شبلی کے شاگرد رشید و سیرت نگار مولانا سید سلیمان صاحب ندوی کے مندرجہ ذیل بیان سے بخوبی معلوم ہو سکتی ہے۔آپ اپنی کتاب ”حیات شبلی " میں رقم طراز ہیں۔۱۹۰۸ء میں یک به یک یہ راز طشت از بام ہوا۔۔۔ندوۃ العلماء نے اگر چہ ابتداء ہی سے اشاعت اسلام کو اپنے مقاصد میں داخل کیا تھا۔تاہم اب تک اس نے عملی طور پر اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی تھی۔لیکن اب وہ حالت پیش آگئی کہ خاموش رہنا مشکل تھا۔ندوہ کی مجلس اشاعت اسلام کے معتمد جناب مولانا شاہ سلیمان صاحب پھلواروی تھے۔اور مولانا (شیلی) کے خیال میں وہ کام نہیں کر رہے تھے۔اس لئے مولانا دو برس تک عجیب شش و پنج میں رہے۔۔۔اس زمانے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔جن سے وہ ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس آگ میں کود پڑے۔انہیں اطلاع ملی کہ شاہ جہانپور کے قریب ایک مسلمان زمیندار راجپوت مرتد ہوا چاہتا ہے یہ سننا تھا کہ وہ بے قرار ہو گئے مولانا (شیلی) نے اس واقعہ کا ذکر خود کیا ہے۔۔۔۔فرماتے ہیں دو سال ہوئے کہ شاہ جہانپور سے ایک خط میرے نام سفید خاں سوداگر کا آیا کہ شاہ جہانپور سے آنٹھ کوس پر ایک گاؤں جمال پور ہے وہاں کے رئیس راجپوت جو مسلمان ہیں وہ ہندو ہونا چاہتے ہیں آریہ وہاں پہنچ گئے ہیں۔ان کو ہندو کرنا چاہتے ہیں آپ جلد آئیے اور مدد کیجئے۔انہوں نے اس کے ساتھ ہی دہلی کی انجمن ہدایت الاسلام کے مولانا عبد الحق حقانی کو لکھا وہ وہاں سے تشریف لائے تھے اور میں ندوہ سے گیا۔جس