تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 333 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 333

شد - جمعه ۳ 325 خلافت ثانیہ کا دسواں سال ک تہائے مدید سے اس حالت پر قائم و برقرار رہنا بھی صرف اس لئے ہو سکا کہ یہ جہاں کہیں بھی تھیں سناتنی ہندوؤں میں گھری ہوئی تھیں۔اور سناتی ہندو کسی غیر مذ ہب کو اپنے مذہب میں داخل و شامل کرنا خودند ہی احکام کی رو سے جائز نہیں سمجھتے۔اور اس کے سخت مخالف تھے۔اس لئے انہوں نے سودی کاروبار کے ذریعہ سے ان قوموں کا خون تو جہاں تک چوس ملا خوب چوسا۔لیکن مذہبی لحاظ سے ان کے معاملات میں نہ کوئی مداخلت کر سکتے تھے اور نہ انہوں نے کوئی مداخلت کی۔ہاں جب انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پنڈت دیانند سرسوتی کی کوشش سے سناتنی ہندوؤں کے خلاف ایک نیا فرقہ آریہ ظہور میں آیا تو وہ غیر مذاہب والوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لینے کا قائل اور اس کے لئے بڑا جوش و خروش رکھنے والا تھا۔چنانچہ اس نے قوت پاتے ہی شدھی یعنی غیر مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ایسے نئے تازہ دم اور جوشیلے فرقہ کی متجسس نظروں سے صدیوں پرانی ملکانہ راجپوت کہلانے والی قومیں کہاں مخفی رہ سکتی تھیں۔جو یو - پی کے متعدد شہروں اور ان کے نواحی علاقوں میں کثرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔اس فرقہ نے کام تو ملکانے راجپوتوں میں بھی شروع کر دیا تھا۔مگر بہت احتیاط بڑی ہوشیاری اور نہایت آہستہ روی سے وہ ان قوموں کو قابو میں لانے کے لئے سالہا سال تک دو حربے ان پر چلاتا رہا۔پہلا یہ کہ مسلمان بادشاہوں نے اب سے صدیوں پہلے تمہارے دادون پر دادوں کو زبردستی ہندو دھرم سے الگ کر کے مسلمان بنا لیا تھا۔لیکن اب تو کوئی زبر دستی کرنے والا نہیں ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ جن کے بزرگوں سے جبرا ان کا دھرم چھڑوایا گیا تھا وہ اپنے بزرگوں کے دھرم میں نہ آجا ئیں؟ دو سرا حربہ مذہب اسلام کو بری سے بری اور بھیانک شکل میں دکھانا اور اس پر زیادہ سے زیادہ نفرت دلانے والے گھناؤنے الزام لگا نا تھا۔یہ خطرناک حربے جن قوموں پر چلائے جا رہے تھے اسلامی تعلیم و تربیت تو ان کے ان بزرگوں کو بھی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔جو اب سے پہلے کسی زمانے میں مسلمان ہوئے تھے۔انہیں صرف اسلام قبول کرنے اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے اور مسلمان سمجھے جانے کا احساس تھا اور یہ ان کا سچا اور گھرا احساس ہی تھا جس نے باوجود اسلامی تعلیم حاصل نہ ہو سکنے کے انہیں بھی آخر دم تک اپنے حال پر قائم رکھا اور اس کے اثر سے ان کی کئی نسلیں بھی اپنے حال پر قائم و بر قرار رہتی ہوئی گزر گئیں۔لیکن مرور زمانہ کے ساتھ یہ احساس بھی کم ہوتے ہوتے بہت کم رہ گیا اور انیسویں صدی کے آخر میں جب بالکل مٹ گیا یا مٹنے کے قریب ہو گیا۔تو اب کون سی چیز ملکانہ راجپوتوں کو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں کی طرح اپنے حال پر قائم رکھ سکتی تھی ؟