تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 332 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 332

تاریخ احمدیت جلد ۴ 324 خلافت ثانیہ کا دسواں سال چوتھا باب (فصل اول) تحریک شدھی کے خلاف محاذ جنگ۔مجاہدین احمدیت کے کار ہائے نمایاں اور اسلام کی شاندار فتوحات خلافت ثانیہ کا دسواں سال ) جنوری ۱۹۲۳ء تا دسمبر ۱۹۲۳ء بمطابق جمادی الاول ۱۳۴۱ء تا جمادی الآخر ۱۳۴۲ ) شدھی تحریک کاپس منظر ہندوستان I میں اسلامی حکومت کی بنیاد تو فاتح سندھ محمد بن قاسم کے ہاتھوں ۷۱۲ ء میں رکھی گئی۔مگر اسلام کا پیغام اس برصغیر میں عرب تاجر اور سیاح برسوں پہلے پہنچا چکے تھے اور اس کی وسیع تبلیغ و اشاعت اکابر اولیاء و صوفیاء د صلحائے امت نے کی۔ان بزرگوں کی اخلاقی قوت ان کے خوارق و کرامات اور ان کے زبر دست روحانی اثرات کی وجہ سے ہندوستان کی کئی بت پرست قومیں راجپوت جاٹ میواتی وغیرہ اس کثرت سے اسلام میں داخل ہو ئیں کہ ہر طرف مسلمان ہی مسلمان نظر آنے لگے۔مگر جیسا عظیم الشان یہ داخلہ تھا ویسے وسیع پیمانے پر اس کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کا انتظام نہ ہو سکا۔اور بعض ہندو قو میں اسلامی تعلیم و تربیت سے بالکل ہی محروم رہیں۔چونکہ وہ اسلام کو سچا سمجھ کر مسلمان ہوئی تھیں اس لئے اپنے آپ کو سمجھتی اور کہتی تو مسلمان ہی رہیں اور ہندو بھی انہیں مسلمان ہی خیال کرتے رہے لیکن اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے اور مسلمان کہلانے کے سوا ان کا رہنا سہنا ، کھانا پینا بول چال، پہناوا پر تاؤ اور رسم و رواج سب ہندوانہ تھے۔یہاں تک کہ نام بھی ہندوانہ کام بھی ہندوانہ اور ماحول بھی ہندوانہ۔ان کے ہاں شادی کے موقعہ پر قاضی جی بھی بلائے جاتے تھے اور پنڈت جی بھی یہی حالت غمی کے موقع پر تھی۔ان قوموں کے مردے دفن بھی کئے جاتے تھے اور جلائے بھی جاتے تھے۔ان کے کئی دور اسی حالت میں گزر چکے تھے۔وہ تو نا واقفی کی وجہ سے اپنی اس غیر اسلامی حالت کو اسلامی حالت سمجھ کر مطمئن تھیں۔اور مسلمان اپنی غفلت و بے پروائی کے باعث اور ان قوموں کا