تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 329
تاریخ احمدیت جلد ۴ 321 ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء صفحہ ) اور چوہدری صاحب ہی نے حضور اور حضور کے خدام کی مہمان نوازی کا انتظام کیا الفضل ۶ مارچ ۱۹۲۲ء صفحه ۲) ١٩٦ الفضل ۲۷ فروری ۱۹۳۲ء صفحه ۱۵ ۱۹۷- الفضل ۶ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ ۲ -192 ۱۹۸ - الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۲۲ء صفحه ا ۱۹۹ الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۲۳ء و الفضل ۳ اپریل ۱۹۲۲ء صفحه ۳ ۲۰۰ - الفضل ۳ اپریل ۱۹۲۲ء صفحه ۵ ۲۰۱ ۱۹۴۷ء تک مجلس مشاورت کا انعقاد اسی ہال میں ہو تا رہا۔اس کے بعد ۱۹۴۸ء کی مجلس شوری رتن باغ لاہور میں ہوئی ۱۹۴۹ء میں اس کا اجر اور بوہ میں ہوا۔ربوہ کی یہ پہلی شوری چند گھنٹوں کے لئے منعقد ہوئی اور اس میں صرف بجٹ پیش ہوا۔۵۱-۱۹۵۰ء کی شوری جامعہ المبشرین کی خام عمارت کے احاطہ میں ہوئی ۱۹۵۳ء سے اس کے اجلاس دفتر لجنہ اماءاللہ کے ہال میں ہونے لگے۔۲۰۲ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۳۰۸- ان بنیادی ہدایات کے علاوہ حضور نے نمائندوں کی راہنمائی کے لئے بکثرت اور ارشادات فرمائے جو مشاورت کی رپورٹوں میں محفوظ ہیں۔۲۰۳۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحه ۲۰- ۲۰۴، ايضا صفحه ۲۸۰۴۷ ۲۰۵۔ایضا صفحه ۵۴۰۵۳ ۲۰۶- ایضا صفحه ۵۹ ۲۰۷۔رپورٹ مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ ۶۰ ۲۰۸ - ایضاً صفحه ۶۰ ۲۰۹ ایضا صفحه ۶۲ ۲۱۰۔یاد رہے کہ ۱۹۵۴ ء اور ۱۹۵۵ء میں حضور نے اپنی بیماری کے باعث مرزا عبد الحق صاحب ایڈوکیٹ (امیر صوبائی) کو صدارت کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔۱۹۶۰ء کے وسطی اجلاس کی صدارت حضور کی ہدایت پر شیخ بشیر احمد صاحب (سابق حج ہائیکورٹ لاہور) نے کی۔اسی طرح ۱۹۶۱ء ۱۹۶۳ء اور ۱۹۶۳ء میں حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو مجلس شوری کے لئے صدر نامزد فرمایا۔اور ۱۹۶۴ میں حضور کے حکم سے شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعت احمدیہ لائلپور کی صدارت میں شوری کا انعقاد ہوا۔۱۹۴۶ سے ۱۹۴۹ء تک کی رپورٹیں غیر مطبوعہ میں چھپی ہوئی رپورٹوں کے ضبط تحریر میں لانے کا کام جن اصحاب نے کیا ہے ان میں خواجہ غلام نبی صاحب بلا نوی ایڈیٹر الفضل اور مولانامحمد یعقوب صاحب طاہر فاضل انچارج شعبہ زود نویسی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔۰۲۱ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۱۵- ۲۱۲۔یہاں شوری کے متفرق کو ائف درج کرنا ضروری ہے۔(۱) ۱۹۲۶ء کی شوری کے ساتھ ایک تبلیغی نمائش بھی منعقد ہوئی۔(۲) ابتداء میں صدر انجمن کی نظارتوں کی رپورٹیں بھی مشاورت میں بنائی جاتی تھیں۔مگر کار روائی کے لمبا ہو جانے کی وجہ سے ۱۹۳۰ء میں یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔(۳) ۱۹۳۰ء میں عورتوں کی نمائندگی کے لئے حضور نے یہ فیصلہ فرمایا کہ لبنات اپنی آراء پرائیویٹ سیکرٹری کو بھجوا دیا کریں میں ان امور کا فیصلہ دیتے ہوئے ان کو بھی مد نظر رکھ لوں گا۔(۴)۱۹۴۱ء میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ شوری میں لجنہ اماءاللہ کی طرف سے ایک نمائندہ شامل ہوا کرے چنانچہ آج تک اس پر عمل ہوتا ہے بجہ کے سب سے پہلے نمائندے جو ۱۹۴۲ء میں مقرر ہوئے بابو عبد الحمید صاحب آؤیٹر تھے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت پر ۱۹۴۷ء تک یہ خدمت بجالاتے رہے انکے بعد میاں غلام مهم ماحب اختر مولوی غلام باری صاحب سیف اور مولوی محمد احمد صاحب جلیل کو بھی شوری میں نمائندگی کا موقعہ ملا۔۲۱۳۔ملاحظہ ہو ر پورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ ۴۵۔