تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 328 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 328

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 320 خلافت ثانیہ کا نواں سال سابق مبلغ بلاد عربیہ ایضا "رسالہ " کیا مسیح علیہ السلام زندہ ہیں - صفحہ ۱۳-۱۴ مرتبه شیخ نور احمد صاحب منیر سابق مبلغ بلاد عربیه) ۱۷- الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۶۱ء صفحه ۳-۴ اس موقعہ پر علامہ شکوت نے شیخ نور احمد صاحب منیر کو اپنی تین اہم تصانیف بطور ہدیہ دیں جن کے نام یہ ہیں۔تو جیمات الاسلام عقیدۃ وشریعہ - الفتاوی۔شیخ الجامعہ نے ان میں سے ہر کتاب پر اپنے دستخط سے عبارت لکھی هدية دينية علمية الى اخر فى الله السيد نور احمد منير من اء باكستان مع خالص التحيات۔۱۷- علماء مصر و عرب کے فتاوی کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو رسالہ کیا مسیح علیہ السلام زندہ ہیں مرتبہ شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ بلاد عربیه ۱۷۴- طبع اول ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۱ء مطبوعہ مطبع دار الجهاد ۴ شارع الجمهوریه ناشر مکتبہ دار العمرد به شارع الجمهوريه القاهره ۱۷۵ - الفتح قاہرہ (مصری) صفحه ۳۱۵-۲۰ جمادی الآخر و ۱۳۵۱ ( بحوالہ الفرقان فروری ۱۹۵۶ء صفحه ۴ ۱۷ اخبار الفتح سے اجمادی الآخر ۱۳۵۸ھ مطابق اگست ۱۹۳۹ء بحوالہ (البشرئی) فلسطین جلده ۷۷ مقدم الذکر دو اصحاب قادیان میں حضور کی زیارت کے لئے آئے تھے اور باقی ربوہ میں۔-۱۷۸ الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے علاوہ سردار نذر حسین صاحب ، مرزا گل محمد صاحب اور چوہدری فضل احمد صاحب بھی افسر تھے جن کا درجہ سیکنڈ لفٹنٹ کا تھا مرزا گل محمد صاحب اسٹنٹ ایجوٹنٹ بٹالین بھی تھے (الفضل ۸ مارچ ۱۹۲۳ء صلحه ۲ رپورٹ سالانه ۳۸-۱۹۳۸م مسلح ۳۳۸ ۱۸۰ تعلیم الاسلام میگزین جلد ۲ نمبر ۳ صفحه ۱۰- سالنامه (۱۹۳۱م) صوبیدار عبد المنان صاحب (حال افسر حفاظت خاص ربوہ) کا بیان ہے کہ ۱۹۲۵ ء کے قریب اس کمپنی کا الحاق انبالہ چھاؤنی کی ۱۵ پنجاب رجمنٹ سے ہو گیا او را ۱۱-۱۵ پنجاب رجمنٹ کا نمبر دیا گیا حضرت میاں صاحب جوانوں کی اعلیٰ ٹریننگ اور نشانہ بازی کے مقابلوں میں شرکت کے لئے میرٹھ چھاؤنی تشریف لے جاتے اور ہمیشہ اول آیا کرتے تھے اس طرح آپ کی حسن تربیت کا یہ نتیجہ تھا کہ احمد یہ ٹریٹوریل کمپنی نے ٹالین اور بریگیڈ کی سالانہ کھیلوں کے مقابلہ میں کثرت سے انعام جیت کر انبالہ چھاؤنی میں ایک ریکارڈ قائم کر دیا تھا۔Al - الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۳۲ء صفحہ سے ۱۸۲- اس کتاب کا انگریزی ترجمہ آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے فرمایا اور حضرت مولانا شیر علی صاحب اسے چھپوانے کے لئے خود بھی تشریف لے گئے (الفضل ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء صفحہ ۲۰) چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ بلاد عربیہ نے ۱۹۴۳ء میں اس کا عربی ترجمہ بھی کہا پی ( فلسطین) سے شائع کیا۔۱۸۳- الفضل ۹ جنوری ۱۹۲۲ء صفحه ۹ ۱۸۴- ملاحظہ ہو تحفہ شہزاد و ریلیز ۱۸۵ تحفه شهزاده ویلز - اردو صفحه ۱۴۲-۱۴۳ ( طبع اول) ۱۸۶۔ملاحظہ ہو تحفه شهزاده و بیزار دو انگریزی طبع دوم ۱۸۷- ذو الفقار ۲۴ اپریل ۱۹۲۲ء ( بحوالہ الفضل ۸ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۷)۔۱۸۸۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۲۷ ۱۸۹ بحوالہ الفضل ۸ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۸۰۷ 140 بحوالہ رہنمائے تبلیغ صفحہ ۱۳۸۳ از سید طفیل محمد شاہ صاحب مرحوم) 191 - الفضل ۸ جنوری ۱۹۲۳ء صفحه ۵ ۱۹۲ نجات صفحه ۵ لیکچر حضرت خلیفہ ثانی ۱۹۲۳ء) ١٩٣ الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۲۳ء صفحه ۸ ۱۹- الفضل ۲۷۷ فروری ۱۹۲۲ء صفحه ۱ -۱۹۵ الفضل ۹ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ ۳۔اس سفر میں حضور کا قیام چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب امیر جماعت لاہور کی کوٹھی پر تھا الفضل