تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 317
تاریخ احمدیت - جلد ۴ 309 خلافت مانید که دل میں یہ مبارک تحریک ڈالی اور ان کی کوششیں مثمر ہو ئیں فالحمد للہ علی ذالک۔۱۹۳۰ء میں لجنہ کو مجلس شوری میں نمائندگی کا حق ملا جولائی ۱۹۳۱ء میں تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہوا تو الجنہ نے اسے کامیاب بنانے کے لئے چندہ دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یکم اپریل ۱۹۳۸ء کو حکم دیا کہ جہاں جہاں لجنہ ابھی قائم نہیں ہوئی وہاں کی عورتیں اپنے ہاں لجنہ اماء اللہ قائم کریں اور وہ بھی اپنے آپ کو تحریک جدید کی والٹیرز ۲۳۵ مجھیں۔ماہ اپریل ۱۹۴۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو الہام ہوا۔اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔Bal اس خدائی تحریک پر حضور لجنہ اماء اللہ کی تربیت و تنظیم کی طرف اور زیادہ گہری توجہ فرمانے لگے۔۱۹۴۶ء میں پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے سلسلہ میں قادیان کی احمدی خواتین نے اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس پر حضور نے فرمایا کہ عورتوں نے الیکشن میں قربانی کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کے اس ذکر کو ہمیشہ تازہ رکھا جائے۔اور بار بار جماعت کے سامنے لایا جائے انہوں نے بے نظیر قربانی اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جاں نثاری کا ثبوت دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ مردوں سے قومی کاموں میں آگے نکل آئی ہیں۔۱۹۴۷ء میں ملک تقسیم ہو گیا اور ہر طرف فسادات کی آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے لجنہ اماء اللہ کی تنظیم معطل سی رہی۔مگر جونہی حالات کچھ سدھرنے لگے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھوں جماعت کا نیا مرکز ربوہ تعمیر ہونا شروع ہوا تو لجنہ کی دینی سرگرمیاں پھر شروع ہوگئیں۔چنانچہ ۱۹۵۰ء میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی تحریک وقف زندگی پر مستورات نے لبیک کہا۔۱۹۵۱ء میں لجنہ اماءاللہ مرکز بیہ کا دفتر بنا۔۱۹۵۵ء میں ان کے چندوں سے ہالینڈ کی مسجد تعمیر ہوئی۔9 دسمبر ۱۹۵۷ء کو فضل عمر جونیئر ماڈل سکول کا اجراء ہوا جو حضرت سیدہ امتہ المتین کی ذاتی نگرانی اور دلچپسی کے باعث آٹھویں جماعت تک ترقی کر گیا ہے۔اس سکول کے علاوہ گھٹیالیاں ، ہلال پور اور چک منگلا میں بھی سکول جاری ہو چکے ہیں۔یہ اجمالی خاکہ ہے ان خدمات کا جو لجنہ اماء اللہ نے انجام دی ہیں۔لجنہ کی تحریک اب عالمگیر تنظیم بن چکی ہے۔جس کی شاخیں نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں ہیں بلکہ کینیا یوگنڈا ٹانگا نیکا- نمانا۔نائیجیریا۔ماریشس - ساؤتھ افریقہ - امریکہ۔لنڈن اور انڈونیشیا تک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔اور اس کے کام کی وسعت روز بروز بڑھتی جارہی ہے لجنہ اماء اللہ نے غیروں پر بھی اپنی غیر معمولی عظمت و اہمیت کا سکہ بٹھا