تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 316
تاریخ احمدیت۔جلد 308 خلافت ثانیه کانواں سا ۱۶ ستمبر ۱۹۲۷ء کو حضرت امتہ الحی صاحبہ کی یاد میں " امتہ الحی لائبریری " کا افتتاح ہوا اور اس کی نگرانی حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کو تفویض ہوئی۔جنہوں نے اپنی پوری زندگی لجنہ کے کام کے لئے وقف رکھی۔افتتاح پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دوسرے افراد نے کتابیں عنایت فرما ئیں۔یہ لائبریری حضرت خلیفہ ثانی کی اجازت خاص سے گول کمرہ میں قائم ہوئی۔۱۹۴۷ء کے بعد اس لائبریری کا احیاء جنوری ۱۹۶۰ء کو ربوہ میں ہوا۔Bad جولائی ۱۹۲۸ء میں صاحبزادی امتہ الحمید صاحبہ (بنت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) کی کوشش سے چھوٹی بچیوں کی لجنہ قائم ہوئی اور کچھ عرصہ بعد صاجزادی امتہ الرشید صاحبہ کی تحریک پر ناصرات الاحمدیہ کی بنیاد پڑی۔اسی سال احمدی مستوارات نے "سیرت النبی " کی تحریک کو بھی کامیاب بنانے میں حصہ لینا شروع کیا۔چوہدری خلیل احمد صاحب نا صر سابق انچارج احمد یہ مشن امریکہ کا بیان ہے کہ ”میری شادی سے قبل جو ۱۹۳۹ء میں ہوئی میری المیہ امتہ الحفیظ صاحبہ اور ان کی چھوٹی بہن امتہ الحی صاحبہ کئی مہینے تک حضرت سیدہ ام طاہر ( خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو) کے ہاں مقیم رہیں۔صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ اور صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ سلمہا اللہ تعالٰی نے اپنی حقیقی والدہ کی وفات کے بعد اسی گھر میں پرورش پائی۔میری اہلیہ صاحبہ اور امتہ الحی صاحبہ کے علی الترتیب دونوں صاحبزادیوں کے ساتھ بہنوں کی طرح کے تعلقات تھے جس کا ذکر حضرت امام جماعت نے میرے نکاح میں بھی فرمایا ان کے ہاں میرا آنا جانا پردہ کے اسلامی احکام کی پوری پابندی کے ساتھ اکثر ہو تا رہتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ان دنوں میں صاحبزادی سیدہ امتہ الرشید صاحبہ نے مجھ سے ایک سے زائد مرتبہ ذکر فرمایا کہ خدام الاحمدیہ کی بنیادوں پر احمدی لڑکیوں کی تنظیم قائم ہونی چاہئے۔چنانچہ باہم مشورہ کے بعد طے پایا کہ ایسی تنظیم کا اعلان فرمانے کے لئے صاحبزادی موصوفہ ایک خط کے ذریعہ سے حضور کی خدمت میں درخواست کریں اور یہ بھی گذارش کریں کہ اس تنظیم کا نام بھی حضور خود تجویز فرما ئیں۔اس خط کا مسودہ تیار کرنے میں خاکسار کو خدمت کا موقعہ ملا۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ اور خاکسار نے کچھ قیاس آرائی بھی کی کہ حضور اس تنظیم کا کیا نام تجویز فرمائیں گے۔حسن اتفاق سے ایک نام " ناصرات الاحمدیہ " بھی ذہن میں آیا بہر کیف صاحبزادی موصوفہ کے حضور کی خدمت میں درخواست کے جلد بعد ہی حضور نے احمدی لڑکیوں کی تنظیم کے قیام کا اعلان فرمایا اور ایک کاغذ پر اپنے دست مبارک سے اسکا نام "ناصرات الاحمدیہ " تحریر فرمایا اور اس طرح اس تنظیم کی ابتداء ہوئی۔صاحبزادی سیدہ امته الرشید صاحبہ سلمها الله تعالی مستحق صد مبارک ہیں کہ خدا تعالی نے ان کے