تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 315 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 315

307 خلافت ثانیه کانواں سال اس ابتدائی تحریک پر (جو محض رضا کارانہ رنگ کی تھی) قادیان کی تیرہ خواتین نے دستخط کئے۔حضور کے فرمان پر ۲۵دسمبر ۱۹۲۲ء کو یہ دستخط کرنے والی خواتین حضرت ام المومنین کے گھر میں جمع ہو ئیں حضور نے نماز ظہر کے بعد ایک مختصر تقریر فرمائی اور لجنہ کا قیام عمل میں آیا۔اس تقریر میں حضور نے لجات کے سپرد جلسہ مستورات کا انتظام کر کے کئی مشورے دیئے۔اور نصائح فرمائیں۔اس اجلاس ادل کے بعد لجنہ اماء اللہ کے مفصل قواعد رسالہ تادیب النساء میں (جو قادیان سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی ادارت میں شائع ہو تا تھا) شائع کر دیئے گئے۔اور اس طرح با قاعدہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے لجنہ کے اغراض و مقاصد جلد سے جلد پورا کرنے کے لئے اور احمدی مستورات کی اصلاح و تنظیم کرنے کے لئے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ لجنات کے ہفتہ وار اجلاس جاری کئے اور فروری اور مارچ ۱۹۲۳ء کے تین اجلاسوں میں نہایت جامعیت کے ساتھ دینی اور دنیاوی علوم کی تفصیلات بیان فرما ئیں۔اس کے ساتھ ساتھ حضور نے خدمت دین کا عملی جوش پیدا کرنے کے لئے تعمیر مسجد برلن کی ذمہ داری بھی احمدی مستورات پر ڈالی۔اور اس کے لئے چندہ کی فراہمی کا کام لجنہ اماءاللہ کے سپرد فرمایا " - II (الجنہ اماءاللہ نے اس عظیم الشان تحریک کے کامیاب بنانے میں جس جذبہ ایثار و فدائیت کا ثبوت دیا اس کی تفصیل ایک مستقل عنوان کے تحت اگلے صفحات میں آرہی ہے)۔دو سال بعد حضرت اقدس خلیفہ المسیح الثانی نے خواتین میں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے کے امارچ ۱۹۲۵ء کو مدرستہ الخواتین جاری فرمایا۔جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب حضرت صوفی غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس اور دوسرے اصحاب کے علاوہ خود حضور دیتے تھے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اس مدرسہ کے نگران تھے۔اس مدرسہ نے خواتین کے علمی و تنظیمی خلاء کو پر کرنے میں بڑا کام کیا۔اور خواتین کے مرکزی اداروں اور درسگاہوں کے لئے معلمات اور کارکنات پیدا ہو گئیں۔۱۵ دسمبر ۱۹۲۶ء کو لجنہ اماء اللہ کی نگرانی میں ماہوار رسالہ " مصباح" جاری ہوا جس سے احمدی خواتین کی تربیت و تنظیم کو بہت تقویت پہنچی۔ابتداء میں رسالہ کا انتظام مرد کرتے تھے مگر مئی ۱۹۴۷ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد پر اس کا پورا اہتمام مرکزی لجنہ اماءاللہ " کو سونپ دیا گیا جس سے رسالہ کے علمی و دینی معیار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔اور اب یہ جماعت کی مستورات کے واحد ترجمان کی حیثیت سے سلسلہ کی خدمت بجا لا رہا ہے۔