تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 311 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 311

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 303 خلافت ثانیه کانوان سال احمدیہ کو یہ تلقین فرمائی کہ وہ غیر احمدی مسلمانوں سے میل جول رکھیں اوران سے ہمدردی اور عمدہ برتاؤ کریں۔اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ان تعلقات کی وجہ سے دین میں خلل نہ آنے دیں۔اور نہ اپنے مذہبی عقائد ان کی خاطر قربان کریں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تبلیغ ہدایت کے نام سے دسمبر ۱۹۲۲ء تبلیغ ہدایت میں ایک اہم کتاب شائع فرمائی جس میں آپ نے مخصوص اور دلکش اور زور دار انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی ماموریت کو دلائل نقلیہ سے ثابت فرمایا۔اگر چہ اس کتاب میں انہی مسائل پر آپ نے قلم اٹھایا جن پر احمد یہ لٹریچر میں بہت کچھ لکھا جاچکا تھا۔لیکن آپ نے ہر بات اور مسئلہ میں خاص رنگ پیدا کیا۔اور ترتیب اور طرز بیان دونوں بالکل نئے اور اچھوتے تھے۔اللہ تعالی نے تبلیغ ہدایت کو اپنے فضل سے بہت مقبولیت عطا فرمائی کئی لوگوں نے اس کے ذریعہ ہدایت پائی اور عموماً اپنوں اور بیگانوں دونوں میں اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا اور آپ کی زندگی میں ہی اس کے آٹھ ایڈیشن شائع ہوئے۔CIA سندھی زبان والا ایڈیشن اس کے علاوہ تھا۔لجنہ اماءاللہ کی بنیاد اور اس کے شاندار نتائج سید نا حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ مبارک میں جو ۲۲۵ مجالس قائم ہو ئیں وہ سب مردوں کی تھیں۔مثلاً " اشاعت اسلام- صد را مجمن احمدید - شعید الاذہان- مجلس احباب - مجمع الاخوان - مجلس ارشاد " وغیرہ لیکن مستورات کی کوئی علمی دینی اور تمدنی انجمن اس وقت تک موجود نہ تھی۔لہذا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حرم دوم امتہ الحی صاحب کی تحریک پر ۲۵ دسمبر ۱۹۲۲ء کو لجنہ اماء اللہ کی بنیاد رکھی۔جس کی پہلی سیکرٹری حضرت امتہ الحی صاحبہ تھیں۔حضرت امتہ الحی صاحبہ کے بعد یہ اہم خدمت آپ کے حرم حضرت سارہ بیگم صاحبہ اور پھر حضرت سیدہ ام طاہر رضی اللہ عنما کے سپرد ہوئی۔جب اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا تو لجنہ کی مبرات نے حضرت ام المومنین کی خدمت میں درخواست کی کہ اس کی صدارت قبول فرمائیں اور غالبا پہلا اجلاس آپ ہی کی صدارت میں ہوا تھا۔لیکن آپ نے پہلے اجلاس ہی میں حضرت ام ناصر کو اپنی جگہ بٹھا کر صدارت کے لئے نامزد فرما دیا۔چنانچہ حضرت ام ناصر اپنی وفات تک جو ا ۳ جولائی ۱۹۵۸ء کو ہوئی یہ فرض نهایت خوش اسلوبی سے نبھاتی رہیں۔اگست ۱۹۵۸ء سے حضرت ام متین صاحبہ کی صدارت میں یہ مجلس کام کر رہی ہے۔لجنہ اماءاللہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۵دسمبر ۱۹۲۲ء