تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 308
یخ احمد بیت - مجلد " tt 300 خلافت ما گیانی واحد حسین صاحب l ( سابق شیر سنگھ حال مربی سلسلہ احمدیہ) اچھوت اقوام کے طلباء کی تعلیم و تدریس کے لئے مقرر ہوئے ان کے بعد مہاشہ فضل حسین صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خاص ہدایات کے ماتحت عظیم الشان لٹریچر پیدا کیا جس سے اچھوتوں کو بیدار کرنے اور انہیں اسلام کے قریب لانے میں بھاری مدد ملی اس سلسلہ میں اچھوتوں کی درد بھری کہانیاں اچھوتوں کی حالت زار - دید شاستر اور اچھوت ادھار اچھوت ادھار کی حقیقت یا ہندو اقتدار کے منصوبے" (حصہ اول) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آخری کتاب مشہور اچھوت لیڈر ڈاکٹر امید کار کی فرمائش پر لکھی گئی تھی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کر دیا گیا۔ڈاکٹر امید کار اس لٹریچر سے بہت متاثر تھے۔کہتے ہیں کہ انہوں نے چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ سے لندن میں ایک ملاقات کے دوران میں کہا کہ اگر میں کبھی مسلمان ہو ا تو احمدی جماعت میں ہی داخل ہوں گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ہندوستان میں صوبہ پنجاب کے بعد بنگال کی طرف بھی توجہ فرمائی اور صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی اے کو ابتدائی سروے کے لئے بھجوایا۔جنہوں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر ایک مفصل سکیم پیش کی۔جس پر وہاں بھی یہ کام ہونے لگا۔- TIA حفظ قرآن کریم کی تحریک اپریل مئی ۱۹۲۲ء میں حضرت خلیفہ ثانی نے جماعت میں حفظ قرآن کی تحریک فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ کم از کم تیس آدمی |ru| قرآن کریم کا ایک ایک پارہ حفظ کریں جس پر کئی اصحاب نے لبیک کہا۔سید نا حضرت مصلح موعود نے ماہ اگست ۱۹۲۲ء میں درس القرآن دیا تھا اس درس القرآن تاریخی درس میں جن خوش نصیب اصحاب کو شرکت کی سعادت نصیب ہوئی ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں یہ فہرست الفضل ۱۰ اگست ۱۹۲۲ء صفحہ ۲۱ سے منقول ہے۔احباب قادیان ا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ۲- چوہدری فضل احمد صاحب۔ایوب خان صاحب طالب علم ہائی سکول قادیان ۸- چوہدری فتح محمد صاحب ایم۔اے - مولوی حافظ ابو عبید اللہ غلام رسول صاحب وزیر - مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل و آبادی م مولوی عبد الصمد صاحب پٹیالوی ۵ مولوی غلام نبی صاحب مولوی فاضل مصری - شیخ عبد الرحمان صاحب مولوی فاضل مصری منشی فاضل ۱۰- مولوی عبد المغنی صاحب تا ظر بیت المال مولوی ارجمند خان صاحب مولوی فاضل م مدرسه احمد میہ قادیان