تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 302
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 294 خلافت اما شبه عمل کیا ہے۔دعوت اسلام کو بڑی آزادی اور دلیری کے ساتھ برطانیہ کے تخت و تاج کے وارث تک پہنچا دیا ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ اسلام کے کسی فرقہ کا کوئی فرد یا موجودہ زمانے کا کوئی شورش پسند اخبار حسد اور بغض کی راہ سے اس تحفہ پر کوئی حملہ کرے ہمیں اس تحفہ میں کوئی ایسا مقام دکھائی نہیں دیا کہ جس میں خوشامد سے کام لیا گیا ہو۔ہاں بعض مقامات ایسے ہیں جس میں مرزا غلام احمد صاحب آنجہانی کے ابتداء سے آخر تک مختصر سے حالات لکھے ہیں لیکن وہ واقعات امن پسندی اور حکومت کی وفاداری کا اظہار ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ بد امن اور شورش پسند فرقہ کو کبھی خدا دوست نہیں رکھتا اور تباہ اور برباد کر دیتا ہے"۔اسی طرح پنجاب کے نیم سرکاری اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ۱۸ / اپریل ۱۹۲۲ء کی اشاعت میں اس کی نسبت یہ رائے ظاہر کی کہ "یہ تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے کہ نہایت قابلیت اور علمیت کے ساتھ اپنے دلائل کو احسن رنگ میں پیش کیا گیا ہے قطع نظر اس کے کہ اس کی وسیع غرض ایک تبلیغی کوشش ہے۔خواہ پرنس آف ویلز احمدی ہوں یا نہ ہوں۔اس میں شک نہیں کہ اس کتاب کی قدرو قیمت میں اور ان لوگوں کے لطف میں کمی نہیں ہو سکتی۔جو مذہب میں اور خاصکر ہندوستان اور برطانیہ کے بے شمار مذاہب میں دلچسپی رکھتے ہیں۔بیرونی دنیا پر بھی اس کتاب نے گہرا اثر ڈالا۔اور مغربی ممالک میں تو اس نے تبلیغ اسلام کا ایک نیا راستہ کھول دیا۔چنانچہ وی آنا (دار الخلافہ آسٹریا) کے ایک پروفیسر نے جو تین زبانوں کا ماہر تھا اسے پڑھ کر بے حد خوشی کا اظہار کیا۔اور افسوس کیا کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے ورنہ دنیا بھر میں اس کی اشاعت کرتا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے امریکہ سے لکھا کہ اس کتاب نے امریکہ کو بہت متاثر کیا ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا امریکہ کے علمی تقاضوں کے مطابق یہ کتاب لکھی گئی ہے۔مغربی ممالک کے علاوہ افریقہ میں بھی اس کا اثر ہوا۔چنانچہ نیروبی کے اخبار "لیڈر" (۲۳ نومبر ۱۹۲۲ء) نے کہا۔”گو میں عیسائی نہیں مگر عیسائیوں کے گھر پیدا ہوا ہوں اور ان کے لٹریچر کو خوب سمجھتا ہوں لیکن جو کچھ مجھے اس کتاب سے حاصل ہوا ہے اور جو میں نے حظ اٹھایا ہے اسے بیان نہیں کر سکتا۔اس کتاب کا لکھنے والا گو مسلمان ہے لیکن شبہ غالب ہے کہ وہ عیسائیوں میں سالہا سال تک رہا ہے اور ان کے لٹریچر کو اس نے غور سے پڑھا ہے ورنہ یہ بہت مشکل ہے کہ وہ عیسائیوں کو ایسی پتہ کی باتیں اس دھڑلے سے سنائے آجتک کوئی ایسی کتاب میری نظر سے نہیں گزری جو مذ ہبی بنیاد پر لکھی گئی ہو اور تعصب سے مبرا ر ہی ہو اس شان کی یہ پہلی کتاب ہے۔۱۹۲