تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 5 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 5

تاریخ احمدیت جلد ۴ 5 سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ہو گا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گاوہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و ٹیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری وباطنی سے پر کیا جائے گا۔اور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔(اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبه فرزند دلبند گرامی ارجمند مظهر الاول والأخر مظهر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہو گا نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گاو كان ا مر ا مقضيا " اس پیشگوئی کے بارے میں جناب اللی کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دو مزید انکشافات ہوئے۔اول یہ کہ ایسا موعود فرزند نو برس کے اندر اندر ضرور پیدا ہو جائے گا۔چنانچہ حضور نے اشتہار ۲۲ / مارچ ۱۸۸۷ء میں تحریر فرمایا۔اس عاجز کے اشتہار مورخہ ۲۰ فروری ۸۔۔۔میں ایک پیشگوئی دربارہ تولد ایک فرزند صالح ہے جو صفات مندرجہ اشتہار پیدا ہو گا۔ایسا لڑ کا بموجب وعدہ الہی نو برس کے عرصہ تک۔۔۔۔۔۔۔ضرور پیدا ہو گا۔خواہ جلد ہو خواہ دیر سے بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا"۔دوم - حضرت اقدس نے "سبز اشتہار " میں تحریر فرمایا کہ۔اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی۔اور اس عبارت تک کہ ”مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے " پہلے بشیر کی نسبت پیشگوئی ہے کہ جو روحانی طور پر نزول رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دو سرے بشیر کی نسبت ہے "۔نیز فرمایا۔بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پر متوفی بشیر اول- ناقل) کے حق میں ہیں۔اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ "اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔" پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے۔اور ایک الہام میں اس کا نام