تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 295
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ " 287 خلافت ثانیه کانواں سال جب کوئی ایسی بات پیش کرے جس پر رائے کا اظہار نا مناسب ہے یا ایسی بحثوں کی طرف لے جائے جو سفر کے مقصد کے خلاف ہے تو بہتر ہے کہ کہدیں کہ مجھے اس امر سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے نہ میں نے اس پر کافی غور کیا ہے۔اور نہ اس پر میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہوں ہر قوم میں کچھ عیوب ہوتے ہیں کچھ خوبیاں۔پس مصریوں کی خوبیاں سکھنے کی کوشش کریں مگران کے عیوب سیکھنے کی کوشش نہ کریں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے گردو پیش ایک قسم کے حالات دیکھتا ہے تو بری باتیں بھی اسے اچھی نظر آنے لگ جاتی ہیں اور وہ اسے بطور فیشن اختیار کرلیتا ہے۔مومن کو اس سے ہوشیار رہنا چاہیئے۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ۱۸ فروری ۱۹۲۲ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور سکندر آباد سے ہوتے ہوئے بمبئی پہنچے جہاں سے بذریعہ جہاز قاہرہ (مصر) میں وارد ہوئے آپ نے حضور کی ہدایات کی روشنی میں وہاں اس رنگ سے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا کہ خدا کے فضل سے پہلے سال ہی ایک جماعت پیدا کر لی چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۲ء پر فرمایا۔اس سال بیرونی ممالک میں۔تبلیغ کے سلسلہ میں ایک نیا مشن مصر میں جاری کیا گیا ہے جہاں خدا تعالی کے فضل سے ایک طالب علم کے ذریعہ جماعت پیدا کر دی ہے۔دسمبر ۱۹۲۳ء سے آپ کی ادارت میں " قصر النیل" کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری ہوا۔عرفانی صاحب نے ۱۹۲۶ء تک مصر میں کام کیا۔اور اعلیٰ طبقہ کے سرکاری ملازمین آپ کے ذریعہ داخل جماعت ہو ئے۔جن میں سے الاستاذ احمد علمی آفندی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ کے زمانہ میں تبلیغ اسلام و احمدیت کا کام تمام تر انفرادی ملاقات یا لٹریچر کے ذریعہ سے ہوا۔مگر آپ کے بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابو العطاء صاحب کے مصر کے علماء اور مسیحی پادریوں سے مناظرے ہوئے۔چنانچہ مولانا جلال الدین صاحب شمس کا ازہر کے تعلیم یافتہ ایک مرتد پادری کامل منصور سے " حد مقته الاز یکیہ " کے گرجا میں اناجیل کی حقیقت کے بارے میں ایک معرکتہ الآراء مباحثہ ہوا۔جو بعد کو تحقیق الادیان کے نام سے رمضان ۱۳۴۸ھ بمطابق فروری ۱۹۳۰ء میں شائع کیا گیا۔اس مباحثہ سے عیسائیت کا نمائندہ لاجواب ہو گیا۔مباحثہ کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ بہت سے مصری نوجوان جو عیسائیت کے اوہام کا شکار ہو رہے تھے۔پھر سے اسلام پر پختہ ہو گئے۔انہی نوجوانوں میں عبد الحمید خورشید آفندی بھی تھے جو اس مباحثہ میں آپ کے دلائل وبراہین سے اتنے متاثر ہوئے کہ احمدی ہو کر عیسائیوں کا مقابلہ کرنے لگے مولانا شمس صاحب نے قاہرہ میں قیام کے دوران میں ایک بہائی محی الدین الکردی سے بھی پرائیویٹ مناظرے کئے اور بار بار تحدی کی کہ بہائی شریعت سے کوئی