تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 288 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 288

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 280 خلافت مهمانیه که میں نے کہا جی ہاں۔پھر آپ نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے آگ بجھانے کی فائر بریگیڈ کی ٹریننگ بھی حاصل کی ہے میں نے جوابا کہا ہاں صاحب۔پھر میں نے کہا کہ حضور کچھ اور بھی پوچھنا چاہتے ہیں تو آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ اب میں آپ کا امتحان لینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر آپ کو ہمیں آدمی فائر بریگیڈ کے لئے دے دیئے جائیں تو ان کے لئے آپ کو کس سامان کی ضرورت ہوگی۔میں نے جو ا با عرض کیا کہ تمہیں چالیس خالی ٹینوں کی ضرورت ہوگی۔میں کے سرکٹے ہوئے ہوں جن میں ہم مٹی یا ریت ڈالیں گے اور ہیں کے آدھے سر کٹے ہوئے ہوں جس میں پانی ڈالا جائے تاکہ ضرورت کے وقت کام آسکے۔اس کے علاوہ ہیں آدمیوں کے پاس نہیں لاٹھیاں ہوں تاکہ اس سے ضرورت کے وقت کام لیا جا سکے۔اور گیتیاں اور بیلچے دس دس ہوں آپ نے کہا کہ آپ اس میں پاس ہو گئے۔پھر آپ نے فرمایا فیلڈ ایمبولینس میں اگر زخمیوں کو اٹھانے کا کام دیا جائے تو آپ کو کس سامان کی ضرورت ہے میں نے ابھی سٹریچر کا نام ہی لیا تھا تو آپ نے کہا یہ تو فیلڈ ہے یہاں سٹریچر کہاں سے آئیں گے اس پر میں نے کہا کہ حضور ہیں آدمیوں کے لئے ہیں بانس کی لاٹھیاں چاہیئں اور میں خالی بوریاں چاہئیں تاکہ چاقوؤں سے بوریوں میں سوراخ کر کے ان میں بانس دے کر سٹریچر کا کام لیا جا سکے۔اس پر آپ نے کہا کہ چاقو کہاں سے آئے گا تو میں نے اپنی جیب سے چاقو نکال کر دکھلا دیا کہ یہ تو میں ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ بیت مبارک کے سامنے الفضل کا دفتر ہے اس پر آپ چالیس آدمی لے کر شام مغرب کی نماز کے بعد صبح تک اپنے انتظام کو مکمل رکھیں گے اور دیکھنا کہ جو آدمی آپ کو دیئے جاتے ہیں یہ پنجابی زمیندار ہیں انہیں حقہ پینے کی عادت ہے کہیں یہ آپ کو وقت پر جواب نہ دے دیں حضرت صاحب کی طرف سے قادیان کے گردا گر د دس دس میل تک کے لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ایک ایک آدمی ہر گھر سے قادیان آجائے اس طرح کافی احمدی جمع ہو چکے تھے مغرب کی نماز کے بعد میں اپنے چالیس منتخب آدمیوں کو لے کر حضرت نواب محمد علی خان کے مکان کی چھت پر جو مسجد مبارک سے متصل ہے چلا گیا وہ چالیس آدمی کچھ اس چھت پر کچھ دوسری چھت پر بھیج دیئے گئے اور ٹینوں میں پانی اور مٹی ڈال کر مسجد مبارک کے سامنے والے مکانوں کی چھتوں پر ارد گرد کے مکانوں کی چھتوں پر رکھوا دیے گئے اور میں ان دوستوں کو آہستہ آہستہ ان کے فرائض بتانے لگا کہ کس چیز کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے فرسٹ ایڈ کے لئے پٹیاں بھی پہنچا دی تھیں۔عشاء کی نماز ہم نے چھتوں پر ہی ادا کی تو زمیندار دوست حقے کی خواہش پر مجھ سے اجازت لینے آئے کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم حقہ پی آئیں۔میں نے انہیں کہا کہ دیکھو اب آپ نے میرے ساتھ کام کرنا ہے اور میرا کہا مانتا ہے ورنہ ہم اپنے مقصد میں ناکام ہو کر بجائے حضور سے دعا لینے کے ان کی ناراضگی کا باعث بن جائیں