تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 286
تاریخ احمدیت - جلد ۴ 278 خلافت عثمانیہ کا آٹھواں سال نواب محمد عبد اللہ خانصاحب وغیرہ اصحاب استقبال کے لئے موجود تھے۔حضور بذریعہ موٹر شیروانی کوٹ تشریف لے گئے۔9 مارچ ۱۹۲۱ء کو حضور نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے شہر والے مکان میں صداقت اسلام" کے موضوع پر لیکچر دیا۔۱۰ مارچ کو حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب ( والد ماجد حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد) کی درخواست پر لدھیانہ میں قیام فرمایا۔حضرت ماسٹر صاحب نے حضور کے اعزاز میں ایک بڑی دعوت کا انتظام کیا۔حضور لدھیانہ سے امارچ ۱۹۲۱ء کو قادیان واپس تشریف PA-28 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ایک پر جلال و شوکت تقریر ۱۹ تا ۲۱ مارچ ۱۹۲۱ ۰ میں قادیان کے غیر احمدیوں کا بڑی دھوم دھام سے جلسہ ہو ا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر اہلحدیث مولوی محمد علی صاحب رو پڑی۔مولوی میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوئی۔مولوی انور شاہ صاحب کا شمیری مدرس اعلیٰ دیو بند اور مرتضی حسن صاحب در بھنگوی وغیرہ نے دل آزار اور اشتعال انگیز تقریریں کیں۔جن کے جواب میں ۲۱-۲۲ مارچ کی درمیانی شب کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ایک پر جلال و شوکت تقریر فرمائی۔چونکہ علماء صاحبان کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کی بے حرمتی کرنے اور کھودنے کی افواہیں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں جن کی تصدیق خود اس جلسہ کی تقاریر سے بھی ہو گئی تھی۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے پہلی بار قادیان کی آبادی اور احمدی مساجد اور بہشتی مقبرہ کی حفاظت کے اقدامات کرنے پڑے۔جمعدار فضل الدین صاحب کمبوہ کا تحریری بیان ہے کہ : جس سال احراریوں نے اپنے بدارا دے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے متعلق اور بہشتی مقبرہ کے متعلق ظاہر کئے تھے اور قادیان میں ایک بہت بڑے جلسہ کے انعقاد کا اعلان کر دیا تھا۔میں ان دنوں مہینہ کی رخصت پر اپنے گاؤں ہمزہ آیا ہوا تھا۔مجھے جسب احراریوں کے جلسہ قادیان کی اطلاع ملی تو میں (نے) اپنے والد صاحب سے اجازت لی اور قادیان کی طرف روانہ ہو گیا۔چونکہ ان دنوں قادیان کی طرف ریل نہیں جاتی تھی میں بٹالہ سے ٹانگہ پر سوار ہو کر قادیان پہنچا اور بہشتی مقبرہ کے قریب ٹانگہ سے اتر کر دعا کے لئے بہشتی مقبرہ گیا۔( مزار) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد چہار دیوار ڈال کر چھت ڈالی ہوئی تھی۔دعا کے بعد میں مسجد مبارک قادیان میں گیا۔سب سے پہلے میں وہاں قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے ملا اور رات مہمان خانہ میں گزاری۔دوسرے دن صبح کے وقت میں ابھی