تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 285
تاریخ احمدیت جلد ۴ 277 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال کی رفتار کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے۔کہ ۱۹۳۱ ء میں اس کے ممبروں کی تعداد تین ہزار ایک سودس تھی جبکہ ۱۹۴۸ء میں یہ تعداد بائیس ہزار پانچ سو بہتر تک پہنچ چکی ہے احمد یہ مشن کی نمایاں کامیابی میں اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا بھی دخل ہے۔جس میں ثانوی تعلیم بھی شامل ہے ان کی مساعی کو مغربی افریقہ کے تمام علاقوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔نے فروری ۱۹۲۱ کو حضرت خلیفتہ المسیح ثانی نے حضرت مسیح حضرت خلیفہ المسیح کا تیرا نکاح موعود کے مخلص اور قدیم صحابی ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی دختر نیک اختر حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ کو اپنی زوجیت کا فخر بخشا۔خطبہ نکاح حضرت سید سرور شاہ صاحب نے پڑھا مر ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا۔۲۱ فروری ۱۹۲۱ء کو تقریب رخصتانہ عمل میں آئی ۲۳ فروری ۱۹۲۱ء کو بوقت صبح دعوت ولیمہ ہوئی۔حضور کو اس نکاح کی تحریک اس لئے ہوئی کہ سیدہ مریم بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت مسیح موعود کے فرزند مرزا مبارک احمد سے ہوا تھا۔مگر جب صاحبزادہ صاحب وفات پاگئے تو حضور نے گھر میں اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ یہ رشتہ ہمارے ہی گھر میں ہو تو اچھا ہے۔۱۳۵ کرتار پور ضلع جالندھر میں سکھوں کی سکھوں کے ایک گورو صاحب قادیان میں مشهور گدی ہے۔۲۵ فروری ۱۹۲۱ء کو وہاں کے گورو ضلع گورداسپور کا دورہ کرتے ہوئے قادیان آئے۔حضرت اقدس نے ان کی پیشوائی کے لئے حضرت مولوی شیر علی صاحب ناظر اعلیٰ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو شہر سے باہر بھجوایا۔گورو صاحب گھوڑے پر اور انکے مصاحب رتھ اور گاڑیوں میں سوار تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے صحن میں اتارا گیا۔حضرت خلیفہ ثانی نے مزاج پرسی کے بعد ان سے مسلمانوں اور سکھوں کے ان باہمی خوشگوار تعلقات کا تذکرہ فرمایا۔جو شاہان مغلیہ کے زمانہ میں تھے۔کوئی پون گھنٹہ کی ملاقات کے بعد گورد صاحب نے رخصت کی اجازت چاہی۔حضرت اقدس نے اپنے گھر سے میووں کی ایک سینی لگوا کر حضرت میر قاسم علی صاحب کے ہاتھ بھجوائی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔سفر لا ہو رومالیر کوٹلہ ۴ مارچ ۱۹۲۱ء کو حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایک مقدمہ میں شہادت کی غرض سے لاہور تشریف لے گئے لاہور میں حضور کی دو تقریر میں ہو ئیں جن کے عنوان یہ تھے "مذہب کی ضرورت " اور " حقیقی مقصد اور اس کے حصول کے طریق "۔۷ مارچ ۱۹۲۱ء کو حضور مالیر کوٹلہ روانہ ہوئے۔مالیر کوٹلہ کے اسٹیشن پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب ، حضرت