تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 271
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 263 خلافت کانسی کا ساتواں سال ایجی ٹیشن کا یہ سارا د و ر اپنی ہنگامہ خیزیوں کے باوجود اسے ایک ایسا بے نتیجہ سیاسی بحران نظر آئیگا جس نے مسلمانوں کی قومی خود داری کا خاتمہ کر کے رکھ دیا۔(یہ) ہندوؤں کا پروگرام تھا ہندو ہی اس کے رہنما تھے۔مسلمانوں کی حیثیت اس ایجی ٹیشن میں ان کے آلہ کار سے زیادہ نہیں تھی۔اس وقت تک ان سے کام لیا جب تک انہیں ضرورت رہی اور اس وقت ایجی ٹیشن بند کر دیا جب ان کی ضرورت ختم ہو گئی"۔جناب عبدالمجید صاحب سالک لکھتے ہیں۔یہ مخلص اور جوشیلے مسلمان کس جوش و خروش سے ایک دینی حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے وطن کو ترک کر رہے تھے۔اور پھر چند ماہ بعد جب امیر امان اللہ خان کی حکومت نے اس لشکر جرار کی آباد کاری سے عاجز آکر اس کو جواب دے دیا تو ان مہاجرین کی عظیم اکثریت بادل بریاں و بادیدہ گریاں واپس آگئی۔اور اس تحریک کا جو محض ہنگامی جذبات پر مبنی تھی نہایت شرمناک انجام ہوا۔لیکن یہ شرمناک انجام دراصل تحریک خلافت کے ہولناک اثرات کا ابھی آغاز تھا کیونکہ چند سال بعد ۱۹۲۴ء میں خود ترکی کی قومی اسمبلی نے ترکی خلیفتہ المسلمین کو معزول اور ان کے عثمانی شاہی خاندان کو جلا وطن کر کے ترکی خلافت کا خاتمہ کر دیا اور محمد مصطفیٰ کمال پاشا کی صدارت میں ترکی میں جمہوری حکومت قائم ہو گئی۔دد اس واقعہ کی خبر ہندوستان میں پہنچی تو عامتہ المسلمین اور ان کے خلافتی لیڈروں پر کیا بیتی۔اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے خود مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں۔”ادھر فیصلہ خلافت کی پہلی خبر رپورٹر ایجینسی نے بھیجی اور اتنی بات کان میں پڑ گئی کہ خلیفہ معزول اور خلافت موقوف! ادھر دماغی رد فعل ( ری ایکشن) کی ایک طوفانی لہر سب کے دماغوں میں دوڑ گئی۔افسوس یہ پینو اص بھی اپنی دماغی حالت عوام سے بلند تر ثابت نہ کر سکے۔بلکہ کہنا چاہئے کہ عوام کی بدحواسی و خیرہ دماغی کی رہنمائی انہی نے کی۔جس طرح اب سے پہلے دنیا کی ہر خوبی انگورہ والوں میں تھی اس طرح ایک لمحہ کے اندر دنیا جہان کی برائیاں ان میں سمند آئیں۔شاید ہی کوئی بے محل اور بد حو اسانہ بات ایسی ہو گی جو نہ کی گئی ہو اس ایک جوش تھا جو مصطفے کمال پاشا کے خلاف اٹڈ رہا تھا۔کا فر بے دین دشمن خلافت چنگیزی بد تر از ہلا کو۔ہم مسلمانان ہند نے پانچ سال سے قومی زندگی کی نئی کروٹ لی تھی اور یہ پہلا واقعہ تھا کہ ہماری دماغی قوت اور قومی نظام کے لئے ایک آزمائش پیش آئی۔میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم آزمائش میں فیل ہو گئے۔گذشتہ دو ماہ نے ثابت کر دیا کہ ہم میں اب تک کوئی نظام و جمعیت نہیں ہے اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہم میں نازک وقتوں کے لئے حالات پر قابو پانیوالے دماغ مفقود ہیں"۔