تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 267 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 267

259 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب، حضرت مولوی : عبدالرحیم صاحب در دایم اے ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب) نے باری باری مسجد لنڈن کے بارے میں اشعار پڑھے اور سب کے بعد خود حضور ایدہ اللہ تعالی نے یہ قطعہ سنایا۔مرکز شرک سے آوازه توحید اٹھا دیکھنا دیکھنا مغرب سے ہے خورشید اٹھا نور کے سامنے ظلمت بھلا کیا ٹھہرے گی جان لو جلد ہی اب ظلم منا ديد اس قطعہ کے علاوہ حضور کی ایک نظم بھی مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے پڑھ کر سنائی۔نظموں کا پروگرام ختم ہونے پر دعا ہوئی اور نماز عصر پڑھنے کے بعد دستر خوان دعوت بچھایا گیا جس میں آقاد خدام سب خوشی خوشی شامل ہوئے۔اٹھا الواح الهدی نونهالان احمدیت کو دردانگیز خطاب ای سال جبکه حضور دهرم سالہ میں مقیم تھے نوجوانان احمدیت کو نہایت قیمتی نصائح کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے ایک درد انگیز نظم کہی جس کا پہلا شعر یہ تھا۔نونهالان جماعت مجھے کچھ کہتا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو اس نظم کی یہ خصوصیت تھی کہ حضور نے نہ صرف قریباً ہر شعر کی وضاحت نثر میں بھی حاشیہ کے ذریعہ سے فرمائی۔بلکہ نظم لکھنے سے قبل اس کا پس منظر بھی اپنے قلم سے تحریر فرمایا جس میں لکھا۔"اے نوجوانان جماعت احمدیہ اہر قوم کی زندگی اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے کس قدر ہی محنت سے کوئی کام چلایا جائے اگر آگے اس کے جاری رکھنے والے لوگ نہ ہوں تو سب محنت غارت جاتی ہے اور اس کام کا انجام ناکامی ہوتا ہے۔گو ہمار ا سلسلہ روحانی ہے مگر چونکہ مذکورہ بالا قانون بھی اٹھی ہے اس لئے وہ بھی اس کی زد سے بچ نہیں سکتا۔پس۔۔۔آپ پر فرض ہے کہ آپ گوش ہوش سے ہماری باتوں کو سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔تاخد اتعالے کی طرف سے جو امانت ہم لوگوں کے سپرد ہوئی ہے اس کے کما حقہ ادا کرنے کی توفیق ہمیں بھی اور آپ لوگوں کو بھی ملے۔اس غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے جس میں حتی الوسع وہ تمام نصیحتیں جمع کر دی ہیں جس پر عمل کرنا سلسلہ کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔۔۔خوب یاد رکھو کہ بعض باتیں چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔مگر ان کے اثر بڑے ہوتے ہیں پس اس میں لکھی ہوئی کوئی بات چھوٹی نہ سمجھو اور ہر ایک بات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔تھوڑے ہی دنوں میں اپنے اندر تبدیلی محسوس کرو گے اور کچھ ہی عرصہ کے بعد اپنے آپ میں اس کام کی اہلیت پیدا ہوتی دیکھو گے۔جو ایک دن تمہارے سپرد ہونے والا ہے یہ بھی یادر کھو کہ تمہارا ایسی فرض نہیں کہ اپنی اصلاح کرد بلکہ یہ بھی فرض ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کی بھی