تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 264 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 264

عریت - جلد ۴ 256 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال عرض کیا کہ لیکچر بند کر دیا جائے۔مگر حضور نے بڑے جلال کے رنگ میں فرمایا۔کہ کیا تم مجھے بزدل بناتے ہو۔اور لیکچر بند نہیں فرمایا۔آخر پولیس نے یہ دیکھ کر کہ حالت خراب سے خراب تر ہوا چاہتی مداخلت کی اور مولوی سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری سے جلسہ کا ہال چھوڑ دینے کے لئے کہا اس پر وہ اپنے ساتھیوں سمیت شور و غل مچاتے جلسہ کی جگہ سے نکل کر باہر دروازہ پر کھڑے ہو گئے۔ادھر ہال میں تو حضور کا لیکچر ہو رہا تھا۔اور ادھر ہال کے باہر مولوی بخاری صاحب احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کر رہے تھے کہ شرافت سے ذرا سا بھی تعلق رکھنے والا انسان انہیں زبان پر لانے کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔انہوں نے غیظ و غضب کے عالم میں یہاں تک کہہ ڈالا آج میں مصروف جہاد ہوں اور مرنے مارنے پر تیار ہوں نماز نہیں پڑھوں گا بلکہ اس کو جو خلیفہ بنا ہوا ہے زندہ نہیں نکلنے دوں گا۔آخر کچھ وقت کے بعد حضور لیکچر ختم کر کے اس مشتعل ہجوم میں سے ہوتے ہوئے خدا کے فضل سے بخیریت اپنی قیام گاہ پر تشریف لے آئے۔اور قادیان واپس تشریف لانے پر جناب بخاری صاحب کی مطلوبہ حدیث کا مکمل متن مع حوالہ شائع کر دیا۔مبلغین کلاس کا اجراء- حضرت امیر المومنین کی ہدایت پر ۲۱ جون ۱۹۲۰ ، کو پہلی یادگار مبلغین کلاس جاری ہوئی اور اس کے استاد علامه زمان حضرت حافظ روشن علی + صاحب جیسے مثالی عالم ربانی مقرر ہوئے۔مولانا جلال الدین صاحب شمس، مولانا غلام احمد صاحب بدوماہیوں، مولانا ظہور حسین صاحب اور مولانا شہزادہ خانصاحب مرحوم جیسے نامور علماء و فضا ، اس پہلی کلاس کے ابتدائی طلبہ ہیں اس کلاس میں بعد کو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب بھی شامل ہو گئے۔تین سال بعد ۱۹۲۴ء میں کریہہ ضلع جالندھر کے ایک نہایت ذہین و طباع طالب علم کو بھی خوش قسمتی سے اس کلاس میں داخل ہو کر حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب سے شرف تلمذ حاصل ہوا یہ طالب علم اب علمی دنیا میں مولانا ابو العطاء I کے نام سے مشہور ہیں۔ان کے علاوہ سلسلہ کے مبلغین میں سے ابو البشارت مولانا عبد الغفور صاحب - مولوی قمرالدین صاحب سیکھوانی جناب قریشی محمد نذیر صاحب اور دوسرے متعدد طلباء تھے جنہیں آپ سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت حافظ صاحب اپنے فرائض تعلیم و تربیت اور جہاد تبلیغ میں اپنی زندگی کے آخری سانس تک مصروف رہے آپ نے اپنی وفات سے قبل یہ وصیت فرمائی کہ میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں۔۔اور حق یہ ہے کہ آپ کے تمام شاگردوں نے آپ کی وصیت پر عمل کرنے کا اپنی اپنی حالت کے مطابق پورا پورا خیال رکھا ہے اور رکھتے ہیں لیکن آپ کے فیض یافتہ تلامذہ میں سے جنہوں نے آپ کے سامنے بھی بہت تبلیغ کی تھی اور آپ کے بعد تو پوری قوت سے تبلیغ کے