تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 263 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 263

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 255 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال ہال میں (جہاں ۱۹۰۵ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیکچر دیا تھا اور حضور علیہ السلام پر پتھر برسائے گئے تھے ) صداقت اسلام و ذرائع ترقی اسلام پر لیکچر دیا اور باوجود مولویوں کی اشتعال انگیزی کے یہ پیچر بخیر وخوبی ختم اور حضور رات کی گاڑی میں لاہور واپس ہو گئے۔حضور نے ۲۴ فروری ۱۹۲۰ء کو جماعت لاہور سے ایک اہم خطاب فرمایا کو بظاہر تو احباب لاہور ہی اس کے مخاطب تھے لیکن فی الحقیقت یہ خطاب تمام جماعت ہائے احمدیہ کے لئے تھا۔حضور ے اپریل ۱۹۲۰ء کو قادیان سے سیالکوٹ تشریف سیالکوٹ اور امرتسر میں لیکچر لے گئے اور ۱۵ اپریل ۱۹۲۰ء کو قادیان واپس آئے۔سفر لاہور کی طرح اس سفر میں بھی حضور نے کئی تقریریں فرما ئیں چنانچہ ۱۰ اپریل ۱۹۲۰ء کو احمد یہ ہال کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے حاضرین سے خطاب فرمایا۔دوسرے روزا اپریل ۱۹۲۰ء کو اس عنوان پر کہ " دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہو گا"۔لیکچر دیا۔اس لیکچر کے وقت آپ کو ایسا محسوس ہوا کہ آسمان سے یکا یک ایک نور اترا ہے اور میرے اندر داخل ہو گیا ہے اور میرے جسم سے ایسی شعاعیں نکلنے لگی ہیں۔کہ میں نے حاضرین کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا ہے۔اور وہ جکڑے ہوئے میری طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔اور بفضلہ تعالٰی یہ تقریر بہت کامیاب ہوئی تیسرے روز ۱۲ اپریل ۱۹۲۰ء کو حضور نے پنجابی زبان میں ایک گھنٹہ تک عورتوں کو لیکچر دیا۔جو فرائض مستورات کے نام سے چھپ چکا ہے حضور سیالکوٹ سے واپسی پر ۱۳ اپریل کو لاہو ر رونق افروز ہوئے۔اور ۱۴ اپریل کو امرت سر پہنچے اور اس موضوع پر کہ کیا دنیا کے امن وامان کی بنیاد عیسائیت پر رکھی جاسکتی ہے " بندے ماترم ہال میں لیکچر دیا۔اور مسٹر لاکڈ جارج وزیر اعظم کے اعلان کے مقابل اسلام کو ذریعہ امن ثابت فرمایا۔اس لیکچر کے دوران میں جب حضور نے اس حدیث کا ذکر فرمایا جس میں خدا تعالیٰ کا ماں سے بھی زیادہ شفیق ہو نا ظاہر کیا گیا ہے۔(ملاحظہ ہو مشکوۃ مطبع مجتبائی دہلی صفحہ ۲۰۷) یہ سنتے ہی امر تسر کی مسجد خیرالدین کے امام جناب مولوی سید عطا اللہ شاہ صاحب بخاری فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت جوش و خروش سے حوالہ صفحہ ، سطر، مطبع ، سنہ کا مطالبہ کرنے لگے۔حضور نے جو انا فرمایا۔اس وقت آپ تقریر سنیں اگر حوالہ کی ضرورت ہو تو مکان پر تشریف لے آئیں۔جناب بخاری صاحب خوب جانتے تھے کہ یہ میدان مناظرہ نہیں ہے کہ کتابیں ساتھ لائی گئی ہوں اور نہ یہ لیکچر کسی اسلامی فرقہ کے خلاف ہو رہا تھا کہ کسی غیر احمدی کو اعتراض ہو سکتا مگر چونکہ ان کی نیت اور تھی۔اس لئے انہوں نے معقول جواب کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔اور جو شور وغل شروع کر چکے تھے اس میں ترقی کرتے گئے اسی دوران میں بعض دوست یہ اندازہ کر کے کہ غوغائی لوگ خشت باری کا ارادہ کر رہے ہیں۔حضور کے آگے کھڑے ہو گئے تا حضور کو تکلیف نہ پہنچے مگر حضور نے ان کو حکماً بٹھا دیا۔بعض نے خطرہ بڑھتا ہوا دیکھ کر یہ بھی