تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 262
254 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال حضور نے مسٹر لاکڈ جارج وزیر اعظم انگلستان کے اس اعلان کی عقلی و نقلی دلائل سے دھجیاں اڑادیں۔کہ آئندہ دنیا کا امن عیسائیت سے وابستہ ہے حضور نے روز روشن کی طرح ثابت فرما دیا کہ مستقبل میں امن وامان کا قیام صرف اسلام ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔حضور کا دوسرا اہم لیکچر "واقعات خلافت علوی" کے موضوع پر لاہور کی مارٹن ہسٹاریکل سوسائی کے زیر انتظام کالج کے حبیبیہ ہال میں ہوا۔اور حضور کے مشہور و مقبول لیکچر اسلام میں اختلافا مے کا آغاز" کی طرح یہ تاریخی تقریر بھی نہایت مقبول ہوئی اور صاحب صدر جناب خان بہادر شیخ عبد القادر صاحب بی۔اے نے انتقامی تقریر میں فرمایا۔" حضرات میں آپ سب صاحبان کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اس پر زور اور پُر از معلومات تقریر کے لئے جو آپ نے اس وقت ہمارے سامنے کی ہے میں نے دیکھا ہے کہ حضرت نے قریبا تین گھنٹے تقریر کی ہے اور آپ صاحبان نے ہمہ تن گوش ہو کر سنی ہے اس تقریر سے جو وسیع معلومات اسلامی تاریخ کے متعلق معلوم ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض بالکل غیر معمولی ہیں۔حضرت ا تیز اوج بصاحب سے ان کی تلاش اور تجسس کے لئے کسی وقت بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ہو گا۔مگر میں باد تامل کہہ سکتا ہوں کہ یہ باتیں محض مطالعہ سے حاصل نہیں ہو سکتیں بلکہ این سعادت خشد بازو نیست بخشنده میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس روانی سے کسی نے تاریخی معلومات کو مسلسل بیان کیا ہو اور پھر کسی تاریخی مضمون میں ایسا لطف آیا ہو جو کسی داستان گو کی داستان میں بھی نہ آسکے۔اس کے لئے میں پھر شکریہ ادا کر تا ہوں۔حضور کا تیر الیکچر " مذہب اور اس کی ضرورت " پر ۱۸ فروری ۱۹۲۰ء کو احمدیہ ہوٹل لاہور میں ہوا جس میں حضور نے انگریزی خوانوں کے اعتراضات اور موجودہ علمی تحقیقات کو مد نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ایسی خوبی و خوش اسلوبی سے پیش کیا کہ دل وجد کرنے لگے۔یہ لیکچر اپنی شان اور اپنے رنگ میں بالکل اچھوتا تھا۔نہایت مشکل وارق مسائل بڑی صفائی و برجستگی سے بیان فرمائے گئے تھے۔۴۔حضور نے ۱۹ فروری ۱۹۲۰ء کو بیرون دیلی دروازہ ایک نہایت عمدہ تبلیغی لیکچر دیا یہ لیکچر ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔اکثر احباب چشم پر آب تھے۔اور غیر از جماعت دوست بھی بہت متاثر ہوئے۔۔اس کے بعد حضور لاہور سے امرت سر تشریف لے گئے اور ۲۲ فروری ۱۹۲۰ء کو بندے ماترم