تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 254
تاریخ احمد بیت۔جلد ۴ صفحه - ) ۴۵۰ یعنی حضرت مولانا شیر علی صاحب ناقل 246 ۲۵۱ حضرت مولانا شیر علی صاحب کے قلم سے لکھی ہوئی اصل وصیت خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔۴۵۲- اخبار حق لاہور ۲۳/ نومبر ۱۹۱۸ء صفحه ۴۰۳ ۴۵۳ یاد گار جنگ صفحه ۱۳۸۰۳۷ شائع کردہ پنجاب پلیسی کمیٹی لاہور) ۴۵۴ اخبار حق لاہور ۲۳ / نومبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔۴۵۵۔الفضل ۳/ دسمبر ۱۹۱۸ء صفحه ۲- ۴۵۶ ۴ - الفضل ۷ / دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۲۱ ۳۵۷ الفضل ۲۶/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۳ ۴۵۸ ریکار ڈ صدر المجمن احمد یہ اکتوبر ۱۹۸۸ء ۴۵۹ - الفضل ۲۹ / مارچ ۱۹۱۹ء صفحه ۴ م الفضل ۲۳/ نومبر ۱۹۱۸ء صفحه ۱-۲- م الحکم ۷/۱۴ دسمبر ۱۹۸۸ء صفحه ۰۸ م الفضل ۲۶/ جنوری ۱۹۱۸ء صفحه ۲ ۳۶۳- الفضل ۲۲ جون ۱۹۱۸ء صفحه ۲ م ریکار و صد را انجمن احمدیه ۱۹۱۸ء ۴۶۵۔الفضل ۱۲ / فروری ۱۹۱۸ء صفحه ۱۰- ۴۶۶۔اخبار نور ۳/ فروری ۱۹۱۸ء صفحه ۷-۱۵ ۴۷: الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۱۸ء صفحه ۲ ۴۷۸ فیصلہ حکم " کے نام سے چھپ گیا تھا۔م الفضل یکم جون ۱۹۱۸ء صفحه 1 ۴۷۰ الفضل ۱۲۸ مئی ۱۹۱۸ء صفحه ۲ ۴۷۱۔شعید الازبان دسمبر ۱۹۱۸ء صفحه ۹-۰۲۶ خلافت ثانیہ کا چھٹا سال ۴۷۲۔سیٹھ صاحب کا وطن مالوف چنیوٹ ضلع جھنگ ہے آپ کے والد ماجد میاں حاجی سلطان محمود صاحب نے چنیوٹ میں اسلامیہ ہائی سکول جاری کیا۔جس کی وجہ سے اپنی برادری میں بانی خطاب پایا حاجی تاج محمود صاحب مرحوم جن کا انتقال جولائی ۱۹۷۴ء میں جاری وجہ سےاپنی پایا حمود مرحوم جن ۱۹۷۳ء میں ہوا آپ کے سگے چاتھے۔(الفضل ۱۸/ ستمبر ۱۹۷۴ء صفحہ ۱۴ ۲۷۳ مسلسلہ احمدیہ صفحه ۳۳-۱۳۷۳ الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۲۵ء صفحه ۱۳ تقریر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) ۴۷۴۔رپورٹ محکمہ نظارت (از یکم جنوری ۱۹۱۹ء تا مارچ ۱۹۱۹ء صفحه ۱۲ شائع کردہ حضرت مولانا شیر علی صاحب ناظر اعلی و الفضل یکم اپریل ۱۹۱۹ء صفحه ۰۸۰۷ ۷۵ الفضل ۳/ جنوری ۱۹۷۹ء صفحہ ۱-۲- نظارتوں کی پہلی۔ماہی کی رپورٹ طبع شدہ ہے۔۴۷۶ الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۵ء صفحه ۳٬۳/ نومبر ۱۹۲۵ء صفحه ۳ ۴۷۷ الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۲۵ء صفحه ۳ ۴۷۹۱۳۷۸ - ۱۲۹ نومبر ۱۹۹۵ء کو نظارت دعوت و تبلیغ ختم کردی گئی اور فیصلہ ہوا کہ جماعت بہت بڑھ چکی ہے اور جماعتی تربیت کی طرف بہت ضرورت ہے اس لئے نظارت تعلیم و تربیت دو نظارتوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔اول نظارت تعلیم دوم نظارت رشد و اصلاح نظارت رشد و اصلاح کے کارکن اپنے گریڈ کے لحاظ سے علی الترتیب (۱) مربی (۳) معلم کے نام سے موسوم ہوں گے۔اس فیصلہ کے مطابق نظارت تعلیم و تربیت کا تربیتی حصہ عمله و بحث سمیت نظارت رشد و اصلاح کی طرف منتقل کر دیا گیا۔