تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 246
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 238 خلافت ثانیہ کا چھٹا سائیں ۲۳۷ الفضل ۲۴/ جنوری ۱۹۱۵ء صفحه حواشی ۲۳۸ الفضل ۲۶/ جنوری ۱۹۱۵ء صفحه ۱ ۲۸/ جنوری ۱۹۱۵ء- ۲۳۹ الفضل ۹ فروری ۱۹۱۵ء صفحہ اکالم۔یہ مضمون بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہو گیا۔-۲۳۰ الفضل ۱۶۰ / فروری ۱۹۱۵ء صفحہ اوالفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۵ء ۲۳۱ الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ ۱۱/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔۲۴۲ الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔۲۴۳۔مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت۔مطبوعہ ۱۹۴۱ء صفحہ ۱۱۸ ۲۴۴۔ضمیمه الفضل ۲۸/ جنوری ۱۹۱۵ء صفحه ۱-۴ ۲۴۵ القول الفصل سرورق (مطبوعہ ۳۰/ جنوری ۱۹۱۵ء) ۲۳۶ عزیز الواعطین حضرت مولانا غلام امام صاحب شاہجہانپوری ثم اسامی کی تبلیغ سے داخل احمدیت ہوئے سلسلہ کے نہایت خدائی اور بذلہ سنج بزرگ تھے۔۱۹۷۴ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کے لائق فرزند جناب محمود الحسن صاحب (ریونیو مبر حکومت مشرقی پاکستان ڈھاکہ سے آپ کی نعش ربوہ لے آئے اور آپ مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔۲۴۷- ریویو آف رینجرز اردو اکتوبر ۱۹۳۹ء صفحه ۲۶۲۴ ۲۴۸۔جیسا کہ تاریخ احمدیت جلد سوم ( طبع اول) میں با تفصیل ذکر آچکا ہے۔حضرت صوفی صاحب نے نے 190 ء میں حضرت اقدس مسیح موعود کے تحریک فرمانے پر اپنی زندگی وقف کی تھی ۱۹۱۲ء میں آپ بی۔اے کا امتحان پاس کر کے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔حضرت نے قرآن مجید حفظ کرنے کا ارشاد فرمایا۔آپ نے بفضلہ تعالی چھ ماہ میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔ان دنوں دربار خلافت میں نیروبی سے ایک مبلغ بھیجے جانے کی درخواست آئی ہوئی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے آپ کو کینیا کا ونی کا اس چارٹ لینے کا حکم دیا۔مگر افریقہ کا پاسپورٹ نہ مل سکا اور حضرت خلیفہ اول کا وصال ہو گیا۔پھر حضرت خلیفہ ثانی کی ہدایت پر آپ نے ماریشس کے لئے پاسپورٹ کی درخواست دی۔دسمبر ۱۹۱۴ء میں آپ کو پاسپورٹ مل گیا۔(یہ حالات خود حضرت صوفی صاحب کے قلم سے روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلدے صفحہ ۲۸۵ پر موجود ہیں) ٢٤٩- الفضل ۲۲ / مارچ ۱۹۲۷ء صفحہ ۳۔۲۵۰- روایات صحابہ جلدی صفحہ ۲۸۵ - ایضا الفضل ۱۵ / اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ ۷ و الفضل ۲۲ مارچ ۱۹۲۷ء صفحہ ۳۔۲۵۱ سیلون میں با قاعدہ مشن اگست ۱۹۵۱ء کو قائم ہوا۔جس کا ذکر اپنے موقعہ پر آئے گا۔۲۵۲- اس مقدمہ کی پوری عدالتی کارروائی ۲۷۳ صفحات میں طبع شدہ ہے۔۲۵۳ - الفضل ۱۶ / اکتوبر ۱۹۱۷ء ۲۵۴- ریویو آف ریلیجنز اردو - اکتوبر ۱۹۳۹ء صفحه ۳۷ و الفضل ۱۵/۱۹ مئی ۱۹۱۷ء صفحہ اکالم۔۲۵۵، ردا نداد مباحثه در باره حیات ووفات عیسی بن مریم علیهم السلام کے نام سے یہ مناظرہ چھپ گیا تھا۔۲۵۶- روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد کے صفحہ ۲۸۲۰۲۸۵- ایضار افضل ۲۲ مارچ ۱۹۲۷ء صفحه ۳ ۲۵۷۔آپ قریباً دو سال تک قادیان میں علم دین حاصل کرنے کے بعد واپس تشریف لے گئے اور اب تک جماعت کے لٹریچر کی فرانسیسی زبان میں منتقل کرنے میں اہم خدمات بجا لا رہے ہیں۔۲۵۸ حضرت حافظ صاحب صحابی تھے مئی ۱۹۰۸ء میں آپ نے حضرت مسیح موعود کے آخری سفرلاہور کے دوران زیارت کی جس کے قریب دو ہفتہ کے بعد حضور علیہ السلام وصال فرما گئے۔روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلدے صفحہ ۲۴۸-۱۹۱۶ء میں آپ نے مبلغین کلاس