تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 221
تاریخ احمد بیت - جلد به 213 خلافت ثانیہ کا پانچواں سال -2 -A صد را منجمن احمدیہ نے اپنے کارکنوں کے لئے پراویڈنٹ فنڈ کا سٹم جاری کیا ۱۹۱۸ء کا سالانہ جلسہ ملتوی کر دیا گیا۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے ۱۹۱۴ ء میں ولایت سے واپسی کے بعد سیالکوٹ میں وکالت شروع کی تھی مگر اپریل ۱۹۱۸ء کے قریب آپ لاہور میں قیام پذیر ہو گئے۔اور امارت لاہور کی نازک زمہ داری بھی آپ کے سپرد کر دی گئی۔فرائض امارت کے علاوہ آپ صد را مجمن احمدیہ کے مشیر قانونی بھی تھے - اور جماعتی مقدمات میں بھی اکثر جایا کرتے تھے۔اس سال (۱۹۱۸ء میں) حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوئی انے اور حضرت سید محمد علی شاہ صاحب نے انتقال فرمایا۔۱۹۱۸ء میں غیر احمدیوں کے دائر کردہ دو اہم مقدمات خارج ہوئے۔(۱) ایک مقدمہ مولوی قاضی فضل احمد لدھیانوی نے شیخ محمد شفیع صاحب سیکرٹری انجمن لدھیانہ کے خلاف ایک اشتہار کی بناء پر دائر کر رکھا تھا جو خارج ہو گیا۔(۲) کٹک کے احمدیوں پر مسجد سے ممانعت کے تعلق میں ایک فوجداری مقدمہ تھا جو عدالت نے خارج کر دیا - عہد خلافت ثانیہ کی پہلی سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ ) پانچ سو کی تعداد میں شائع ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات کا مجموعہ ” تبلیغ رسالت " کے نام سے حضرت میر قاسم علی صاحب نے شائع کرنا شروع کیا۔- اس سال کے مشہور مباحثات مباحثہ ہوشیار پور O (مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اور مولوی ثناء اللہ کے درمیان) مباحثہ فتح گڑھ چوڑیاں - شیخ محمد یوسف صاحب ( کا آریوں سے ) مباحثہ گوجرانوالہ ( مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کا عیسائیوں سے) مباحثہ شملہ (مولوی عمر دین صاحب شملوی اور مولوی عبدالحق صاحب غیر مبائع) مباحثه گجرات - حضرت حافظ روشن علی صاحب کا آریہ پنڈت پور نند سے) مباحثہ ماچھیواڑہ ضلع لدھیانہ (حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کا دہلوی علماء سے) مباحثہ کپور تھلہ -1+ |GNA] - شیخ عبد الخالق صاحب نو مسلم اور پادری عبد الحق صاحب کے درمیان) علمائے سلسلہ کی نئی مطبوعات " میرا عقیدہ دربارہ نبوت مسیح موعود " (مولفہ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل حلال پوری حق الیقین " ( حضرت مولوی حکیم عبید اللہ صاحب بسل) 11- اس سال سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی (کلکتہ) احمدیت میں داخل ہوئے جنہوں نے آگے