تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 220 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 220

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 212 خلافت ثانیہ کا پانچواں سال خوشی نے لڑائی کے زمانے کی بہت سی کلفتوں کو دھوڈالا۔۔۔خدا نے برطانیہ اور اس کے حلیف دول کو بڑی شاندار کامیابی دی ہے۔۔۔ظلم پر عدل کی فتح ہے خود مختاری پر جمہوریت کی فتح ہے۔دنیا کی تاریخ ایک نیا ورق الٹتی ہے۔خدا کرے کہ امن و آزادی کا ایک دور جدید دنیا بھر میں اس فتح سے و شروع ہو - ۲۷/ نومبر ۱۹۱۸ء کو ملک بھر میں جشن فتح منایا گیا۔اس تقریب پر مسلمان شعراء نے دل کھول کر نظمیں کہیں مثلاً میر غلام بھیک بی۔اے نیرنگ (صدر انجمن دعوت و تبلیغ اسلام انبالہ) نے لکھا۔دکھایا اوج طالع نے نگاہوں کو عجب منظر جسے دیکھو خوشی کے جوش میں آپے سے ہے باہر مبارکباد کا اک شور ہے مشرق سے مغرب تک ترانوں سے طرب کے گونجتا ہے گنبد خضر ملی برطانیہ کو فتح کامل ایسے دشمن پر تصور میں نہیں آتا ہے دشمن جس سے قاتل تر شہنشہ جارج کو آخر خدا نے فتح کامل دی که خود فتح و ظفر کو ناز ہے اس شہ کی نسبت پر Cor ایک اور مسلمان شاعر خان احمد حسین خاں (مدیر "شباب اردو ) نے لکھا۔فتح شاندار مبارک ہو شہریار تم کو نصیب خضر کی ہو عمر تاجدار تیرا راج راحت اہل قلوب ہو اور اس یہ آفتاب نہ ہر گز غروب ہو RE دوسرے مسلمانوں کی طرح جماعت احمدیہ نے بھی اس جشن میں حصہ لیا۔کھیلوں کے مقابلے ہوئے غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلایا گیا۔چراغماں کیا گیا۔اور اس تمام تر خوشی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مغرور اور متکبر سلطنت جرمنی جو آج سے چند سال پیشتر تمام دنیا کو اپنی ظلم و استبداد کی حکومت کے ماتحت لانے کے خواب دیکھ رہی تھی اس پر برطانیہ اور اس کی اتحادی طاقتوں نے کامل غلبہ اور فتح اور اقتدار حاصل کر لیا۔۴۵۵ حضور نے پانچ ہزار روپیہ جنگ عظیم میں کام مسلمان بچوں کے لئے پانچ ہزار روپیہ آنے والے مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کے لفظ میں عطا فرمایا۔مگر فنڈ 1 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ہاں (حضرت ام ناصر کے متفرق مگر اہم واقعات بطن سے) صاجزادہ بطن سے ) صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور حضرت سیدہ امتہ الحی کے بطن سے صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ کی ولادت ہوئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب پیدا ہوئے۔