تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 207
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 199 خلافت عثمانیہ کا چوتھا سال سلسلہ جاری رکھا۔ترقی اسلام میں حصہ لینے سے متعلق جماعت احمدیہ کے نام چھ صفحات کا پیغام بھیجا ۳۰ / دسمبر ۱۹۱۷ء کو حضور کا جماعت شملہ کے سالانہ جلسہ پر "زندہ مذہب" کے عنوان سے زبر دست اور پُر عظمت لیکچر ہوا۔جس میں حضور نے قبولیت دعا کے معاملہ میں مذاہب عالم کے لیڈروں کو فیصلہ کن چیلنج دیا۔شملہ سے واپسی پر حضور راجپورہ اسٹیشن پر پہنچے اور پھر حضرت مجدد الف 1 ۴۰۲ ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر فاتحہ کے لئے تشریف لے گئے پھر راجپورہ واپس آکر پہلے سنور پھر پٹیالہ پہنچے اور صداقت اسلام کے موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ تک نہایت زور دار الفاظ میں دلوں کو ہلا دینے والا لیکچر دیا - خواجہ حسن نظامی صاحب کی عجیب و درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے سجادہ نشین خواجہ حسن نظامی دہلوی نهایت شریف مگر ہوشیار غریب دعوت مباہلہ اور اس کا جواب صوفیوں اور صاحب طرز ادیبوں اور انشاء پردازوں میں سے تھے۔خواجہ صاحب کے مراسم جماعت احمدیہ کے ساتھ ایک عرصہ سے سے قائم تھے مگر یکا یک خدا جانے کیا خیال آیا کہ انہوں نے (رسالہ نظام المشائخ میں) سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کو مباہلہ کا یہ عجیب و غریب چیلنج دے دیا کہ وہ اجمیر شریف میں آئیں میں بھی وہاں حاضر ہو جاؤں گا۔آستانہ خواجہ غریب نواز کی مسجد میں میرزا صاحب میرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی باطنی قوت کے تمام حربے مجھ پر آزمائیں۔اور جب وہ اپنی ساری کرامت آزما چکیں تو مجھ کو اجازت دی جائے کہ میں صرف یہ کہوں۔اے خدا طفیل اس صاحب مزار کی حقانیت کے اپنی صداقت کو ظاہر کر اور ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو اس کو اسی وقت اور اسی لمحہ میں ہلاک کر دے اور اس کے بعد میرزا محمود احمد کو اجازت دی جائے۔کہ وہ اپنے الفاظ میں جو جی چاہیں کریں۔میعاد صرف ایک گھنٹہ مقرر کی جائے۔یعنی دونوں آدمیوں میں سے ایک پر ایک گھنٹہ کے اندر اس دعا کا اثر ہونا چاہئے۔"اگر تم کو یہ مباہلہ منظور ہو تو ربیع الاول ۱۳۳۷ھ کی چھٹی تاریخ کو اپنے حواریوں کو لے کر اجمیر شریف آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔جب تم اس ارادہ سے اجمیر شریف آؤ تو اپنی والدہ صاحبہ سے دودھ بخشوا کر آنا اور ریلوے کمپنی سے ایک گاڑی کا بندوبست کرالینا جس میں تمہاری لاش قادیان روانہ ہو سکے۔اور نیز اپنی اہلیہ صاحبہ سے مہر بھی معاف کر الیتا اور قادیان کو والد ماجد کی قبر سمیت ذرا غور سے دیکھ کر آنا کہ پھر تم کو زندگی میں وہ در و دیوار دیکھنے نصیب نہ ہوں گے اور جانشینی کے مسئلہ کو بھی طے کر کے آنا"۔سید نا حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو جب خواجہ صاحب کے اس چیلنج کا علم ہوا تو حضور نے مفصل اعلان فرمایا کہ مباہلہ کے مسنون طریق کے مطابق حضرت مسیح موعود کی سچائی کے