تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 202 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 202

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 194 خلافت ثانیہ کا تیسرا سال کے فیصلہ کو بحال رکھا۔اور اپیل نا منظور کر دی۔فریق ثانی کی طرف سے بھی اپیل کی گئی وہ بھی خارج ہو گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح ایده پرو فیسر مارگولیتھ حضرت امیر المومنین کی خدمت میں اللہ تعالی بصرہ العزیز سے ملاقات کے لئے ۱۶ دسمبر ۱۹۱۶ء کو مشہور مستشرق اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر قادیان آئے حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ملاقات کے وقت ترجمان تھے حضور نے ایک مختصر مگر نہایت مفید گفتگو فرمائی اس علمی مذاکرہ میں معجزہ شق القمر بھی زیر بحث آیا۔حضور نے ان کو الوادع کہتے ہوئے مغربی حلقوں میں پہنچا دینے کے لئے ایک پیغام بھی دیا جو یہ تھا کہ اگر یورپین لوگ محبت سے اسلامی مسائل کے متعلق تحقیقات کریں تو اس سے انہیں فائدہ بھی ہو گا اور آپس میں محبت بھی بڑھے گی اور حضور نے ان کو بطور تحفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند عربی مطبوعات دیں اور پروفیسر صاحب عازم لاہو ر ہو گئے۔۲۵۸ دسمبر ۱۹۱۶ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اپنی تمام بیش "صادق لائبریری " کا قیام بہا کتابوں کا ذخیرہ صدر انجمن احمدیہ کے نام وقف کر دیا 700 - ۳۵۹ اور صدرانجمن احمدیہ نے حضرت خلیفہ اول کا کتب خانہ اور شہید اور ریونیو کی لائبریری میں اسے مدغم کر کے ایک مستقل مرکزی لائبریری " صادق لائبریری" کے نام پر قائم کر دی۔جس کے ناظم افسر مدرسہ احمدیہ تھے۔اور ۲۴/ جولائی ۱۹۱۷ء سے حضرت شاہزادہ عبدالمجید صاحب لدھیانوی اس کے لائبریرین مقرر ہوئے - ۱۹۲۴ء میں یہ لائبریری نظارت تألیف و تصنیف کے زیر انتظام کردی گئی اور حضرت امیر المومنین کی خاص ہدایت پر مخالفین اسلام و احمدیت کی کتب خصوصیت سے جمع کی جانے لگی۔۱۴/ جنوری ۱۹۲۹ء کو حکیم غلام حسین صاحب نے اس کا چارج لیا۔اور اپنی وفات تک جو ۱۳ / جون ۱۹۵۰ء کو ہوئی یہ خدمت نہایت محنت سے بجا لاتے رہے۔نومبر ۱۹۲۹ء میں لائبریری کے قواعد و ضوابط تجویز ہوئے Ba - جولائی ۱۹۳۲ء میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے اپنی ۱ لائبریری بھی اس میں شامل کر دی ۱۹۴۷ء میں اس کا بیشتر حصہ قادیان میں رہ گیا۔تاہم جو کتابیں بھی لائی جاسکیں وہ از سر نو مرتب کی گئیں۔اور دوبارہ ربوہ میں اس کا قیام عمل میں آیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر مئی ۱۹۵۲ء کو یہ مرکزی لائبریری اور حضور کی ذاتی لائبریری دونوں ملا کر ایک کر دی گئیں۔اور اس مجموعہ کا نام خلافت لائبریری رکھا گیا۔اور جون ۱۹۵۲ء میں اس کے پہلے انچارج جناب مولوی محمد صدیق صاحب فاضل شاہد ڈی۔ایل۔ایس واقف زندگی مقرر ہوئے