تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 188
تاریخ احمدیت - جلد ۴ 180 خلافت ثانید چکے تھے اور اب کے فتحہ ہائی کا امتحان دینا تھا۔سال ڈیڑھ سال سے شبانہ روز جسم و علم میں ترقی تھی۔اور اب خاصہ جوان آدمی معلوم ہوتے تھے۔ذہن نہایت تیز اور رسا تھا مگر منشاء الہی کے مقابلہ میں انسان کا کچھ بس نہیں چل سکتا۔اور اس کے ہر فعل میں حکمت ہوتی ہے اور جیسا کہ مجھے ان کی وفات کے بعد معلوم ہوا۔یہ واقعہ بھی اللہ تعالی ہی کی حکمتوں کے ماتحت تھا۔ورنہ کئی فتنوں کا اندیشہ تھا۔مرحوم بوجہ کمسن ہونے کے بہت سے فتنہ پردازوں کے دھوکے میں آجاتا تھا۔میں آخری دنوں میں اپنے گھر میں ہی ان کو لے آیا تھا۔(ان کی بہن امتہ الحی کی خواہش سے ) اور حیران تھا کہ وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مصر سا تھا اور بار بار کہتا تھا کہ آپ میرے پاس بیٹھے رہیں مجھے اس سے تسلی ہوتی ہے معلوم ہوتا ہے وفات سے پہلے اس کے دل کے دروازے اللہ تعالٰی نے کھول دیئے تھے اور ایک پاک دل کے ساتھ وہ اللہ تعالٰی سے جاملا۔مجھے اس سے ایسی محبت تھی جیسے ایک سگے بھائی سے ہونی چاہئے۔اور اس کا باعث نہ صرف حضرت مولوی صاحب اللہ کا اس سے محبت رکھنا تھا۔بلکہ یہ بھی وجہ تھی کہ اسے خود بھی مجھ سے محبت تھی 1۔۔۔۔۔۔۲۹۷۴۹۵ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نگاہ احمد یہ ہوسٹل لاہور کا قیام دوربین تبلیغ کی راہوں اور طریقوں سے گزر کر نو نهالان جماعت کی ابتدائی تعلیمی و تربیتی ضرورتوں تک بھی جا پہنچی۔قادیان میں ان دنوں کوئی کالج نہیں تھا۔اس وجہ سے یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے جماعت کے نوجوانوں کو لاہو ر یا دو سرے شہروں کے کالجوں میں داخل ہونا پڑتا تھا۔یہ صورت حال تربیتی نقطہ نگاہ سے بڑی خطرناک تھی۔کیونکہ جماعتی ماحول سے نکل کر دنیا کے زہر آلو د مادی ماحول میں داخل ہو جانا خام طبیعتوں پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔حضور نے جماعت کی نئی پود کو اس خطرہ سے محفوظ کر دینے کے لئے تجویز فرمائی کہ لاہور میں احمدی نوجوانوں کے لئے ایک ہوسٹل قائم کیا جائے۔جہاں جماعت کے نوجوان طلبہ جماعت کے تربیتی نظام کے ماتحت رہیں۔یہ ہوسٹل ۱۹۱۵ء کے آخر میں جاری ہوا۔اور اس کے پہلے سپرنٹنڈنٹ مکرم بابو عبد الحمید صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ لاہور مقرر کئے گئے۔اور درس و تدریس کا فرض حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ادا فرمانے لگے I حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا شروع شروع میں یہ دستور تھا کہ حضور جب کبھی لاہور تشریف لے جاتے تو احمد یہ ہوسٹل میں ہی قیام فرماتے۔کہ طلباء میں دینی روح پیدا ہو۔اور وہ احمدیت سے اخلاص میں ترقی کریں۔اور یہ حضور کی اس خاص توجہ کا نتیجہ تھا کہ احمد یہ ہوسٹل کے طلباء نہایت اخلاص و جوش رکھنے اور خدمات سلسلہ میں پورا حصہ لینے والے تھے۔چنانچہ مسجد لندن کی تحریک پر صرف احمد یہ ہوسٹل کا چندہ دو ہزار کے قریب تھا۔امتحان کے دنوں میں بھی طلباء TAA