تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 189
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 181 خلافت ثانیہ کا دو سرا سال احمدیت کی تبلیغ کے جوش میں سائیکلوں پر سوار تمام شہروں میں اشتہار بانٹتے پھرتے۔ایک دفعہ حضور امتحان کے دنوں میں لاہور تشریف فرما ہوئے۔تو لڑکوں نے امتحان کا کام چھوڑ دیا۔مگر خدا کے فضل سے پھر بھی ان کے نتائج بہت عمدہ رہے۔اسی طرح جب ۱۹۱۷ء میں غیر احمد یوں نے قادیان میں پہلا جلسہ منعقد کیا تو احمد یہ ہوسٹل کے طلباء بھی قادیان پہنچ گئے۔وہ بھی امتحان کے دن تھے لیکن بفضلہ تعالٰی سب کے سب پاس ہو گئے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپریل ۱۹۲۷ء میں جب کہ آپ ناظر تعلیم و تربیت تھے۔احمد یہ ہوسٹل کے مفصل قواعد و ضوابط مرتب فرمائے۔کل چالیس قواعد تھے جن میں سے چند یہ تھے۔(1) کسی بورڈر کے پاس رات کو کوئی مہمان نہیں ٹھہر سکے گا۔(۲) ہر بور ڈ ر اسلامی تعلیمات کا پابند ہو گا۔اور سپرنٹنڈنٹ کے احکام کی اطاعت کرے گا۔(۳) پانچوں نمازیں ادا کرنی ہوں گی۔اور رمضان کے روزے رکھنے ہوں گے۔(۴) سگریٹ نوشی ممنوع ہو گی۔(۵) ہوسٹل کے ملازمین سے طلباء قرضہ نہیں لے سکیں گے وغیرہ وغیرہ۔احمد یہ ہوسٹل کو لاہور میں ایک عرصہ تک نوجوانان احمدیت کے دینی و علمی مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔یہ گویا اسلامی ماحول میں پرورش پانے والا ایک شجر تھا جس نے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب - ملک غلام فرید صاحب ملک عبدالرحمن صاحب خادم- ڈاکٹر بدر الدین صاحب - حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے۔شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے سید عزیز اللہ شاہ صاحب سید محمود اللہ شاہ صاحب جناب شیخ بشیر احمد صاحب جناب مرزا عبد الحق صاحب جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر۔جناب میاں عطاء اللہ صاحب۔صوفی محمد ابراہیم صاحب اخوند عبد القادر صاحب مرحوم اور چوہدری علی اکبر صاحب جیسے اثمار شیریں پیدا کئے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1928 ء (صفحہ 244 تا 246 ) میں احمد یہ ہوسٹل کے قدیم طلبہ کی حسب ذیل فہرست شائع شدہ ہے۔(۱) میاں عبداللہ خان صاحب (۲) ملک غلام فرید صاحب (۳) ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب (۴) صوفی محمد ابراہیم صاحب (۵) چود بری محمد لطیف صاحب (۶) ڈاکٹر غلام قادر صاحب (۷) شیخ احمد الدین صاحب * 1916-1915 (۸) ڈاکٹر غلام علی صاحب (۹) ڈاکٹر غلام محمد صاحب (۱۰) ڈاکٹر ایل الدین صاحب (۱۱) میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد (۱۲) چودہری غلام حسین صاحب (۱۳) چود بری ظفر اللہ خان صاحب نائب تحصیلدار