تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 184
176' خلافت ماشیه کادو سرا سال آسٹریلیا سے بیعت خلافت کا خط آسٹریلیا میں سالہا سال سے ایک بزرگ صوفی حسن موسیٰ خان صاحب رہتے تھے۔جو صحابی تھے اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان بھی آچکے تھے خلافت ثانیہ کے قیام پر بعض وجوہ سے آپ متامل رہے۔مگر بالآخر 1/ جولائی ۱۹۱۵ء کو بذریعہ خط بیعت کرلی۔اور آخر دم تک اس براعظم میں آنریری طور پر اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہے۔آپ بڑے مخلص و پُر جوش بزرگ تھے۔ضعیف العمری کے باوجود بڑی محنت و جانفشانی سے کام کرتے۔زبانی بھی تبلیغ کرتے اور تبلیغی خطوط بھی بکھرت لکھتے آپ ہی کی کوشش سے وہاں ” بیرسن بین " اور " آڈ میئر میں جماعتیں قائم ہو ئیں اور جزیرہ نجی میں احمد یہ لٹریچر پہنچا۔۱۸/ اگست ۱۹۴۵ء کو آپ کی وفات ہوئی اللہ تعالی آپ کو مدارج عالیہ عطا فرمائے۔آپ کے بعد تبلیغ کا کام پر تھ کے ایک مخلص احمدی جناب شیر محمد صاحب نے سنبھال لیا ایک والئے ریاست کو جواب حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالی پر ایک والی ریاست نے اپنے معتمد کے ذریعہ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضور ہمارے یہاں تشریف لائیں ہم سلسلہ احمدیہ کے متعلق کچھ سننا چاہتے ہیں حضور نے جواب دیا کہ پیاسا کنوئیں کے پاس آتا ہے۔کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا۔ہاں اگر آپ کو واقعی حق کی تلاش ہے۔تو علمائے سلسلہ بھیجے جاسکتے ہیں بشرطیکہ ان کی حفاظت کے آپ ذمہ دار ہوں۔۱۹۱۵ء کے وسط آخر کنانور (مالا بار) کے قریب احمدیوں پر راجہ صاحب کے مظالم میں مالا باری احمدیوں پر بہت ظلم و ستم ڈھائے گئے ایک احمدی کو مسجد میں نماز پڑھنے کی وجہ سے زدو کوب کر کے نیم جان کر دیا۔جس پر مقدمہ چلا۔غیر احمدیوں نے مقدمہ کے لئے ایک فنڈ کھول دیا۔چند روز کے بعد ایک احمدی کے ایس۔حسن صاحب کا چھوٹا بچہ فوت ہو گیا۔راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ احمدی کا فر ہیں کسی مقبرے میں ان کا مردہ دفن نہیں کیا جا سکتا۔آخر دو سرے دن بڑی کوشش کے بعد کنانور سے دو میل دور ایک قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت ملی۔چار پانچ ہزار لوگ شرارت کے لئے جمع ہو گئے۔احمدی صرف نو تھے آخر مسلح پولیس کی حفاظت میں نعش لے جائی گئی۔اور شام کے قریب بچہ دفن کرنے کی نوبت آسکی۔اس واقعہ کے کچھ دن بعد راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ کوئی دکاندار کسی احمدی کے ہاتھ کوئی چیز فروخت نہ کرے۔ورنہ وہ بھی قادیانی قرار دے کر مساجد سے روک دیا جائے گا۔اس سے پہلے کئی احمدیوں کی بیویاں بھی چھینی جاچکی تھیں۔اب اس حکم سے لوگوں کو اور شد مل گئی۔